چشم نظارہ پہ کیا کوئی بھی الزام نہ تھا

چشم نظارہ پہ کیا کوئی بھی الزام نہ تھا
چاندنی رات تھی اور کوئی لب بام نہ تھا
وہم تھا لوگ مرا راستہ تکتے ہوں گے
آ کے دیکھا تو کسی لب پہ مرا نام نہ تھا
اس طرح باغ سے چپ چاپ گزر آئے ہیں
جیسے پھولوں کی مہک میں کوئی پیغام نہ تھا
عمر بھر اپنی ہی گردش میں رہے ہم باقیؔ
اس جگہ دل تھا جہاں اور کوئی دام نہ تھا
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے