چشمِ تر سے پھسل نہیں سکتی

چشمِ تر سے پھسل نہیں سکتی
زندگی گھر بدل نہیں سکتی
کچھ گنوائے بنا کوئی لڑکی
اس طرح ہاتھ مل نہیں سکتی
شام کا انتظار کرتی ہو
عمر ایسے تو ڈھل نہیں سکتی
مہ جبیں ! اس طرح کھلے سر تُو
چاندنی میں نکل نہیں سکتی
میری فطرت اگرچہ باغی ہے
میری تقدیر ٹل نہیں سکتی
اس نظر کی برہنہ پائی بھی
آئینے پر سنبھل نہیں سکتی
رہبروں کا لہو منافق ہے
کوئی قندیل جل نہیں سکتی
زندگی کے طویل رستے پر
تُو مرے ساتھ چل نہیں سکتی
 
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے