چشمک ہم سفراں یاد نہیں

چشمک ہم سفراں یاد نہیں
کون بچھڑا تھا وہاں یاد نہیں
دل شوریدہ سے الجھا تھا کوئی
تم تھے یا درد جہاں یاد نہیں
ہم تھے شاکی کہ جہاں تھا شاکی
کون تھا کس پہ گراں یاد نہیں
زندگی چال نہ چل جائے کہیں
کوئی بھی اپنا نشاں یاد نہیں
ہم کہاں ہیں کہ ہمیں اب کچھ بھی
جز حدیث دگراں یاد نہیں
آگ گلشن میں لگی تھی باقیؔ
فصل گل تھی کہ خزاں یاد نہیں
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے