چاندنی کے ہالے میں کس کو کھوجتی ہو تم

چاندنی کے ہالے میں کس کو کھوجتی ہو تم
چاندنی کے ہالے میں کس کو کھوجتی ہو تم
چھپ کے یوں اداسی میں کس کو سوچتی ہو تم
بار بار چوڑی کے سُر کسے سناتی ہو
شور سے صدا کس کی توڑ توڑ لاتی ہو
بزم میں بہاروں کی، کھوئی کھوئی لگتی ہو
دوستوں کے مجمع میں ، کیوں اکیلی رہتی ہو
موج موج بہتی ہو، آنسوؤں میں رہتی ہو
جھالروں سے پلکوں کی، ٹوٹ ٹوٹ جاتی ہو
بلبلے کی صورت میں پھوٹ پھوٹ جاتی ہو
دھند سے لپٹ کر کیوں، سونی راہ تکتی ہو
کھڑکیوں سے برکھا کو، دیکھ کر بلکتی ہو
سارے سپنے آنکھوں سے ، ایک بار بہنے دو
رات کی ابھاگن کو تارہ تارہ گہنے دو
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے