چھمن کا فسانہ!

چھمن کا فسانہ!
چیزیں قیمتی نہیں ہوتی ان سے جڑا احساس قیمتی ہوتا ہے، جو ان چیزوں کو قیمتی بنا دیتا ہے یہی وجہ ہے بے شمارچیزیں بکتی ہے خریدنے والا اپنے رشتوں کو اپنا ہونے کا احساس دینے کے لیے چیزیں خرید لے جاتا ہے، اور جب وہ چیزیں اپنی مقررہ جگہ پر پہنچ جاتی ہیں تو وہ اپنے ہونے کا احسا س منتقل ہو جاتا ہے، رشتوں میں گہرائی بڑھتی جاتی ہے لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ چیزیں رشتوں کی گہرائی کے لیے ضروری ہیں ! یہی رشتے انسان کو زندگی میں اہم کردار ادا کرنا سکھا تے ہیں،کیونکہ جہاں حلال و حرام کا کلیہ رشتوں کو معلوم ہوتا ہے وہاں وہ اپنے رشتوں کو حرام سے بڑا بچاتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں،اور جب زندگی بہت آگے بڑھ جاتی ہے تو ان رشتوں کو پھل مل جا تا ہے جب ان کے وہ بیج جن کو انھوں نے حلال کی بنیاد پر بو یا تھا وہ درخت بن جاتے ہیں ایسے درخت جو اس تلخ دنیا کا بڑی بہادری سے اکیلے مقابلہ کرتے ہیں اور فخر سے کھڑے ہوتے ہیں،وہ اپنے ضمیر کے سامنے مطمئن ہوتے ہیں جو دنیا کی سب سے بڑی نعمت اور رحمت ہے،ٹھنڈک ہے،سکون ہے وہ الگ ہوتے ہیں دنیا میں اور منفرد رہتے ہیں
چھمن نے بھی تو یہی کیا اپنے آبا و اجداد کے خلاف جا کر اپنے بیٹے کے لیے الگ منصب چن لیا تھا، کہیں کسی پڑھے لکھے کی بات جو کبھی ریڈیو پاکستان پر کسی نے کہی ہو گی !
چھمن کے جو والدین اپنے بچوں کو حلال کھلاتے ہیں ان کے بچوں کی عادات بھی حلال ہو جا تی ہے، وہ اس راستے پر نہیں چل پاتے جو نقصان کا راستہ ہو تا ہے،جو کسی کو تکلیف دینے کا راستہ ہوتا ہے، جو آہ کا راستہ ہو تا ہے، چھُمن اس وقت پندرہ سال کی تھی،اس کے سارے خاندان والے گداگری کے پیشے سے منسلک تھے،لیکن سارے خاندان میں ہلچل اس وقت مچی جب چھمن نے مانگنے سے انکا ر کر دیا۔
ارے کیا کہہ رہی ہے کلموہی،تم نہیں مانگو گی تو ہمارا پو را کیسے ہو گا، اماں میں کس واسطے منگا اے چنگانی ہوندا (میں کس لیے مانگو یہ درست نہیں ہوتا) اری یہی تو ہمارا خاندانی کام ہے، میں نی کرنا اما ں میں بس نی مانگنا لوکو ں کولو، او جیڑا رب ہے نا اما ں او مالک ہے اور اوہ ہی رازق ہے، پتہ نی تساں کیوں مانگدے ہوں لوکوں کولوں (پتہ نہیں تم کیوں لوگو ں سے مانگتے ہو)اچھا پتر چل نہ مانگ روٹی ٹکر ہی لا دے چل۔
چھمن کے ابا مینو ں نی لگدا چھمن منگن جاوے گی، ہاں بس میں بھی یہی سوچ رہا ہو ں اس کی شادی کرا دوں تاکہ یہ اپنے گھر کی ہو جائے، پھر جو اس کا شوہر کرے گا وہی وہ کر لے، چھمن کی شادی خاندان سے باہر کر دی اس کے والد نے کیونکہ وہ جانتا تھا چھمن بھیک نہیں مانگے گی۔
چھمن انتہائی سادہ لڑکی تھی یہ اس کے سسرال والے جان گئے تھے اور اس سے خو ش بھی تھے، لیکن قسمت کا کھیل یہ تھا کا چھمن کا شوہر جو کماتا تھا اس پرسود ضر ور لیتا تھا،یہ بات کو ئی نئی نہیں تھی اس لیے گھر میں اس بات کا تذکرہ کم ہوتا تھا، دو سال گزر گئے اور چھمن ایک بیٹے کی ماں بن گئی۔چھمن بے شک پڑھی لکھی نہیں تھی لیکن اپنے بیٹے کو بہترین انسان بنا نا چاہتی ہے اور ہر حرام راستے سے دور رکھنا چاہتی ہے یہ بات چھمن کا شوہر وکیل بھی جانتا تھا، لیکن اس کی تربیت میں حلال اور حرام کا کو ئی کلیہ موجو د نہیں تھا،وہ خو د سود لاتا، اور گھر میں سود چلتا تھا، چھمن سمجھ گئی تھی کہ اس کا شوہر وکیل ایسا کرتا ہے،چھمن نے وکیل سے کہا کہ وہ اپنے بچے کا خیال کرئے اس کے لیے سود نہ لائے،وکیل بھڑک گیا کہ سود تو سارے تاجر لیتے ہیں بہت سارے لو گ ایسا ہی کرتے ہیں دنیا آج یو ں ہی تو چل رہی ہے، آپ سمجھ نہیں رہے دنیا میں ایسے لوگوں کا اضافہ اسی لیے تو ہو رہا ہے کہ حلال و حرام کا فرق مٹنے لگا ہے، خاندان کے خاندان اس مرض میں مبتلا ہے اور ان کے بچے پھر کیسے سچے بنے گے جب ان کی بنیاد حرام پر رکھی جائے گی،اور پھر کھیتی خراب ہو جائے گی درخت بودے ہو جائے گے،
مجھے تمھاری باتوں سے کو ئی فرق نہیں پڑتا اور نہ میں ایسے کسی کلیے کو جانتا ہوں ! یہ کہہ کر وہ چلا گیا، لیکن چھمن اس کلیے میں مصروف تھی جو اس کے بچے کو بھی ان خوفناک لوگو ں کی فہرست میں کھڑا دکھا رہا تھا جس دنیا کی بات اس کے شوہر وکیل نے کی۔
ماں کی ذمہ داری بہت بڑی ہو تی ہے وہ ہی وہ مدرسہ ہوتی ہے جس میں بچے کی بنیا د رکھی جا تی ہے اگر اس کا بچہ بھی، ہائے میرے ربا ! رہ رہ کر چھمن کی تکلیف بڑھتی جا رہی تھی، جا نے اس ما ں کو کیا پڑی تھی اپنے بچے کو حلال اور حرام کے کلیہ سمجھا نے کی،ساری رات سو چتی رہی اور اگلی صبح پھر وکیل کے روبرو خدا کا واسطہ ہے اپنے بیٹے کا خیال کر و کل کو وہ بھی لوگوں کو تکلیف دے کر دوسروں کے چولہے سے رزق چھین کر اپنے گھر لا یا کرئے گایہ ظلم ہے اور میں اپنے بیٹے کو ایسے ظلم کی دنیا نہیں سکھا سکتی۔ وکیل بھڑک گیا جو مرضی کر و، دفعہ ہو جا و میرے گھر سے اور اسے بیٹے کو بھی لے جاؤ میں بھی دیکھو ں گا تم ایک بھکارن خاندان کی لڑکی کیسے پالے کی حلال کھلا کر اپنے بیٹے کو، چھمن کو احساس تھا کہ وکیل کیا کہہ رہا ہے، وہ تھوڑی دیر کھڑی رہی اور پھر اپنے بیٹے کو اُٹھا یا اور اس گھر سے چل دی کے اب اس کو پرورش کر نا ہے اپنے بیٹے کی، عورت کے لیے فیصلے کرنا بڑا مشکل ہو تا ہے لیکن جب بات اولاد کی ہو تو وہ بڑے سے بڑا فیصلہ بڑی آسانی سے کر لیتی ہے چا ہے وہ کتنی ہی تکلیف میں کیوں نہ ہو
پورے تیس سال گزر گئے اور چھمن کی محنت اس کا حلال اور حرام کا کلیہ جیت گیا تھا، اس کا بیٹا جس میں ساری خوبیا ں مو جود تھی،جو اس کی ماں کے مدرسے سے اسے ملی آج وہ کا لج کے ہر طالب علم کا پسندیدہ اُستاد بھی ہے اور کالج کا پرنسپل بھی جس کا نا م ڈاکٹر عادل وکیل ہے۔ اس کی ما ں نے تو صرف ایک بیج بو یا تھا آج وہ بہت سار ے بیج بور ہا ہے تاکہ اس کی ماں زندہ رہے، جو ایک بھکارن کی اولاد تھی پیپل والی مسجد میں جھاڑو دینے کے دس روپے روزانہ کماتی تھی،باقی دن سلائی کرتی، رات کو اپنے بیٹے کے لیے دعا کر نے والی چھمن اگر چہ زندہ نہیں ہے لیکن شور تو مچا یا ہے چھمن نے ایسا شور جس کی آواز اُٹھی ضرور تھی دبی نہیں اور اب بھی پھیلتی جا رہی ہے۔۔۔
٭٭٭

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے