چمن میں جاکے جو میں گرم وصف یار ہوا

چمن میں جاکے جو میں گرم وصف یار ہوا
گل اشتیاق سے میرے گلے کا ہار ہوا
تمھارے ترکش مژگاں کی کیا کروں تعریف
جو تیر اس سے چلا سو جگر کے پار ہوا
ہماری خاک پہ اک بیکسی برستی ہے
ادھر سے ابر جب آیا تب اشکبار ہوا
کریں نہ کیونکے یہ ترکاں بلندپروازی
انھوں کا طائر سدرہ نشیں شکار ہوا
کبھو بھی اس کو تہ دل سے ملتے پایا پھر
فریب تھا وہ کوئی دن جو ہم سے یار ہوا
بہت دنوں سے درونے میں اضطراب سا تھا
جگر تمام ہوا خون تب قرار ہوا
شکیب میر جو کرتا تو وقر رہ جاتا
ادھر کو جاکے عبث یہ حبیب خوار ہوا
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے