چلو چلتے ہیں، اپنی بقا کیلئے نکلتےہیں

چلو چلتے ہیں، اپنی بقا کیلئے نکلتےہیں

پکار رہی ہیں صدائیں، بہنیں، بیٹیاں اور مائیں

سروں سے انکے چھتیں تو کب کی چھین لی گئیں

اب ڈھکے سروں کو برہنا کر رہے ہیں

یہ بزدل ان اوڑھنیوں کو ذرا بکتر سمجھ رہے ہیں

سوچئے ذرا!وہ بھی کیا وقت ہوگا

جب اوڑھنی کے ذرا سرک جانے سے

سورج حیاسے ڈوب گیا ہوگا

اب تو اوڑھنیوں سے بات آگے نکل گئی ہے

ہم سے مایوس ، ہماری بہن ، بیٹیاں دین بچانے نکل گئی ہیں

ناتواں ہیں مگر آہنی حوصلے لئے مقدس مٹی کی محبت میں مٹ رہی ہیں

کیا کیمرے کی آنکھ سے دیکھتے ہوئے

تمھیں نہیں لگتا کہ وہ ،

ہمیں آرام دہ عبادگاہوں میں بیٹھے فقط دعائیں مانگتے دیکھ رہی ہیں

اور فخر سے مسکراتے ہوئے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں

ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا

ان ماوں کے بچوں کو دیکھو کہ

ایک ہاتھ میں دودھ کا فیڈر لئے ہوئے

دوسرے ہاتھ میں پتھر پکڑے

جسم پر بغیر کسی ڈھال کے

اپنی ماں سے ایک قدم آگے کھڑا ہے

جیسے جامِ شہادت کو گلے لگانے کو تڑپ رہا ہے

میں بھی اپنی شرمندگی کو خالد

لفظوں میں پرو رہا ہوں اور بس ہا تھ پر ہاتھ رکھے رو رہا ہوں

جبکہ ہم ایٹمی طاقت ہیں ، وقت کہ عظیم سورمائوں میں شمارہے ہمارا

مگر افسوس کہ حالات کی نظر ہوگیا ہے فلسفہ حیات ہمارا

خالد راہی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے