چھلکا چھلکا رہتا ہے ، درد سے بھرا ساون

چھلکا چھلکا رہتا ہے ، درد سے بھرا ساون
پیار کے لئے لمحہ، بھول جانے کو جیون
خوش جمال نے کیسی، آگ میں جلا یا ہے
میں تو جیسے بھٹی میں، تپ کے ہو گئی کندن
جو چھپا ہے زلفوں کی کالی کالی بدلی میں
ڈس نہ لے کہیں اس کو پاس جا کے یہ ناگن
دھل گئی دھنک ساری بارشوں کی جھڑیوں میں
جھلملا گیا تیرے روپ انوپ کا آنگن
رات دن سویروں سا خواب جلتا رہتا ہے
شام رنگ جنگل میں، میں ہوں اور مرا ساجن
آ بھی جا کہ پانی پر پھر شکارے بہتے ہیں
مانجھی گیت گاتے ہیں سوگوار ہے برہن
آئینے میں اک چہرہ با ت کر نے آتا ہے
دیکھنے کو بیٹھی ہوں بن سنور کے جب درپن
ہو چکے ہیں بوسیدہ نرم سانس کے ڈورے
اب بکھرنے والی ہے جو پروئی تھی دھڑکن
رات بھیگتی ہے جب آرزو کے ڈیرے پر
کیسی کھنکھناتی ہے تیر ی یاد کی جھانجھن
روح کے دریچوں میں ہجر بس گیا جب سے
آ کے لے گیا پیتم، مجھ سے میرا تن من دھن
درد کی حویلی میں چاندنی کہاں نیناں
اب یہاں اندھیرا ہے ، بند ہیں سبھی روزن
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے