چار پیسے کماتا ہے، باپ تب مسکراتا ہے

چار پیسے کماتا ہے، باپ تب مسکراتا ہے
پھل محنت کا پاتا ہے، باپ تب مسکراتا ہے

تلخیاں سب زمانے کی، جھیل کر سختیاں دن بھر
جب واپس گھر کو آتا ہے، باپ تب مسکراتا ہے

بچے دوڑ کر ٹانگوں سے اسکی جب لپٹتے ہیں
تھکاوٹ بھول جاتا ہے، باپ تب مسکراتا ہے

بہت لاڈ و محبت سے، تھکن سے چور کاندھوں پر
جونہی بچے بٹھاتا ہے، باپ تب مسکراتا ہے

بڑے ہی چاٶ سے انگلی، تھما کر اپنے بچوں کو
جب چلنا سکھاتا ہے، باپ تب مسکراتا ہے

جوانی میں قدم رکھ کر جب بیٹا باپ کے اپنے
برابر قد کے آتا ہے، باپ تب مسکراتا ہے

کرکے ہر بال کو چاندی، سونا وہ جب اپنی
بیٹی کا بناتا ہے، باپ تب مسکراتا ہے

کسی اونچےمقام پہ جب، بچہ باپ کے اپنے
نام سے جانا جاتا ہے، باپ تب مسکراتا ہے

جوڑ کر سب جمع پونجی، اپنے خوں پسینے سے
نشیمن اک بناتا ہے، باپ تب مسکراتا ہے

طارق اقبال حاوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔