چھا کر دلوں پہ ان کی نظر مطمئن نہیں

چھا کر دلوں پہ ان کی نظر مطمئن نہیں
تاروں کو روند کر بھی سحر مطمئن نہیں
ہونٹوں سے آہیں چھیننے والے ادھر تو دیکھ
ہم چپ تو ہو گئے ہیں مگر مطمئن نہیں
روداد غم ہے اب نئے عنواں کی فکر میں
آنسو بہا کے دیدہ تر مطمئن نہیں
غم رفتہ رفتہ بڑھتے گئے زندگی کے ساتھ
دل مطمئن ہوا تو نظر مطمئن نہیں
روز ایک تازہ حادثہ لائے کہاں سے زیست
مانا کہ دور شام و سحر مطمئن نہیں
کس کاروان شوق کا باقیؔ ہے انتظار
کیوں زندگی کی راہگزر مطمئن نہیں
باقیؔ عجیب روگ ہے یہ رنگ و بو کی پیاس
دل مطمئن ہوا تو نظر مطمئن نہیں
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے