بچے بذریعہ جراحت

بچے بذریعہ جراحت (cesarean child) اہل اقتدار کے لئے لمحہ فکریہ
تم زمین پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا۔
آج دیکھنے میں آیا ہے۔ کہ ہسپتالوں میں تقریباً ہر بچہ بذریعہ جراحت ہو رہا ہے۔کیوں؟ لیکن جب دیسی دائیاں ہوتی تھیں۔ہر بچہ نارمل طریقے سے ہوتا تھا۔ اور تقریباً ہر بچہ صحت مند ہوتا تھا۔ انکی ناف اور سنت بھی نمبر1۔ آج جو ولائتی دائیاں آ گئی ہیں۔ جنہیں انگریزی میں گائناکالوجسٹ کہتے ہیں۔ عملی طور پر ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ کہ کوئی ایک مثال نہیں کہ انہوں نے کسی بچے کو نارمل جنم دیا۔ ان سے پہلے بچہ الٹا بھی ہوتا تھا تو وہ کوشش کر کے اس کو ہر ممکن نارمل کر لیتیں۔ آج کی پڑھی لکھی دائیاں بچے کو صحیح خالت میں نارمل جنم دینے میں ناکام رہی ہیں۔ ایسا کیوں نہیں ہوتا کیونکہ نارمل پیدائش سے ڈاکٹر کو پانچ چھ ہزار ملیں گئے۔ اور اس میں محنت بھی کرنی پڑے گی۔ لیکن اپریشن سے انہیں چالیس۔ پچاس ہزار ملیں گئے۔ چند منٹوں کی محنت سے۔ عام بچے کی پیدائش سے عورت ہفتہ دس دن میں گھر کے کام کاج کرنے کے اہل ہو جاتی ہے۔ مگرسرجیکل پیدائش سے عورت دو تین ماہ کے لئے بیکار۔ دوسرا بہوشی والی دوائیوں سے عورت کے ساتھ ساتھ بچہ بھی دوائی کے مضر اثرات سے مخفوظ نہیں رہتا۔ بچہ پیدا ہوتے ہی اسے کم از کم تین دن تک Incubator میں رکھتے ہیں۔ کیونکہ اس پر سے دوائی کے اثرات زائل ہو جائیں۔ وقتی طور پر اثرات ختم ہو جاتے ہیں۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے۔ ما بعد اثرات بچے پر رہتے ہیں۔مثلاً بچے کا پیٹ خراب ہونا۔ تلی پر اثرات۔ جگر پر اثرات۔ اب اس 40۔50 ہزار کے علاوہ incubator کے پیسے اور جو تین چار ماہ آپ اب مزید علاج کروائیں گئے۔ وہ علیحدہ۔
کیوں کہ وارث اس وقت اپریشن پر راضی ہو جاتے ہیں۔ بچے کی پیدائش سے دو تین ماہ پہلے تک تو یہی کہا جاتا ہے کہ سارا کیس نارمل ہے۔ کیونکہ اس وقت تک الٹرا ساؤنڈ۔ شوگر اور باقی ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔ صرف پیسے کمانے کی خاطر۔ عین وقت آنے پر کہہ دیا جاتا ہے۔ زچہ۔بچہ کا بلڈ پریشر خراب ہے۔ الٹرا ساؤنڈ میں خالت بہت خراب ہے۔ اسکے علاوہ مختلف باتوں سے وارثوں کو خوف زدہ کر دیا جاتا ہے۔ کہ زچہ۔ بچہ کی زندگی خطرے میں ہے۔ اپریشن کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ وارثوں کو کیا پتہ کہ الٹرا ساؤنڈ کیا ہے۔ بلڈ پریشر میں کیا مسئلہ ہے۔ انہیں آپریشن کروانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ دوسرا ولائیتی دائیوں نے بذریعہ مافیا دیسی دائیوں کے کام پر پابندی لگوا دی ہے۔ تاکہ پورے ملک کا روپیہ وہ ہی اکٹھا کر لیں۔ انہیں معلوم ہو نا چاہئے ان کا بہت کڑا حساب ہو گا۔ کیونکہ دھوکہ دہی اور ورغلا کر وہ یہ کام کرتی ہیں۔ انہیں انصاف کرنا چاہئے۔
ان اللہ یحب المقسطین ہ
یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
انصاف یہ ہے۔کہ صاحب حیثیت تو چالیس پچاس ہزار یا لاکھ بھی خرچ کر سکتا ہے۔ لیکن 9000.00 والا کیا بیچ کر یہ خرچ پورا کرے گا۔ بس یہ کہ ایک بچے کو جنم دے کر خود کو اللہ کی رضا پر چھوڑ دے۔
والدین کے لئے نسخہ کیمیا
والدین کے لئے ایک تجویز ہے۔کہ چھرا مار پیدائش پر ولائیتی دائی سے التجا کر لیں۔ کہ آپ کو تو پیسوں سے غرض ہے۔ ہم آپ کو 50,000روپے دیتے ہیں۔ Delivery نارمل کر دیں۔ عورت بھی اپریشن سے بچ جائے گی۔ بچہ بھی ما بعد دوائیوں کے اثرات سے محفوظ رہے گا۔ اور آپ چھ ماہ بعد بھی بچے کا علاج کروانے سے بچ جائیں گے۔
عابد خان لودھی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے