بس یہی سوچ کے دوبارہ محبت نہیں کی

بس یہی سوچ کے دوبارہ محبت نہیں کی
عمر بھر اس نے مرے شہر سے ہجرت نہیں کی

فاسق و فاجر و غدار کہا جاتا ہے
جرم اتنا ہے کہ ظالم کی اطاعت نہیں کی

میرے مولا یہ در و بام سلامت رکھنا
میں نے اس بار قبیلے کی حمایت نہیں کی

ہیں مری ذات سے دوچار گلے اس کو بھی
سامنے آ کے کبھی اس نے شکایت نہیں کی

خواب دل گیر کی دنیا میں بڑا ہی خوش ہوں
میں حقیقت کے جزیروں کی سیاحت نہیں کی

پگڑیاں سب کی برابر ہی ہوا کرتی ہیں
کیا میں دوران عداوت تری عزت نہیں کی

یہ جو دھرتی کا بدن بانجھ بنا ہے ساحل
شہنشاہوں نے رعایا کی حفاظت نہیں کی

ساحل سلہری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے