بس کی کھڑکی سے

روز سویرے
گھاس کے گیلے چہرے پر جب
دھوپ کے دھاگے گرتے ہیں
اور شانت کھڑے پیڑوں پر پنچھی
شور مچانے آجاتے ہیں
لمبی پتلی سڑک پہ جیون جاگتا ہے
آنکھوں کے گوشوں سے چپکی
نیند کھرچ کر
ہر کوئی کام کو بھاگتا ہے
کرنوں کی جھلمل کے زور سے
سوئے ہوئے مٹیالے بادل
اک جانب کو جھکتے ہیں
بس کے پہیے دوڑتے دوڑتے
عین اُس بالکنی کے سامنے
لحظہ بھر کو رکتے ہیں
کاسنی پھولوں والی بیلیں جس کے کنارے جھکی ہوئی ہیں
اور اُن پھولوں کے جھرمٹ میں
کرسی پر بیٹھا اک بوڑھا آدمی نیچے
سڑک پہ چلتے ہنگامے کو
کھوئی ہوئی نظروں سے دیکھتا رہتا ہے
دوجی جانب
وقت کے قیدی
آدھے ادھورے کاموں کی گنتی سے الجھے ہوئے مسافر
بالکنی میں پھیلی فرصت اور سکون کو
اک حسرت سے تکتے ہیں
پلک جھپکتے تھکے ہوئے مٹیالے بادل
تازہ دَم کرنوں کی بھیڑ میں کھو جاتے ہیں
شاخ سے ٹوٹے پھول ہوائیں
دور اڑا کر لے جاتی ہیں
بوڑھی آنکھوں میں اک سایہ لہراتا ہے
پیڑ پہ شور مچاتا پنچھی اُڑ جاتا ہے
اور اِک معمولی جھٹکے سے
بس آگے بڑھ جاتی ہے

گلناز کوثر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔