بس ایک بار تو اپنا بنا کے دیکھتا تُو

بس ایک بار تو اپنا بنا کے دیکھتا تُو
غلام کیسا ہے یہ آزما کے دیکھتا تُو
بہت سے رنگ ہیں تیرے ہزاروں عکس، بجا
مگر جو اشک میں بنتا ہے آ کے دیکھتا تُو
تجھے نظر نہیں آیا کہ تیرے پاس تھا مَیں
قریب کتنا ہوں یہ دور جا کے دیکھتا تُو
میاں نصیب ستاروں میں ہے یہ باتیں ہیں
کسی فقیر سے نظریں ملا کے دیکھتا تُو
یہ پیاس کیا ہے مکمل سمجھ میں آ جاتی
جو کربلا کو تصور میں لا کے دیکھتا تو
صغیر (نام) میں کوئی تو بات ہے ورنہ
نہ اس کو لکھتا نہ ایسے مٹا کے دیکھتا تُو
صغیر احمد صغیر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے