بس اور کچھ نہیں

بس اور کچھ نہیں

مجھے تم سے اب محبت نہیں رہی
کسی اور سے ہو گئی ہے
مگر تم غم نہ کرنا
مجھ میں خوفِ خدا ہے
میں تلافی کر وں گا
میں تمھارے نام ایک پلاٹ کر دوں گا
سونے کے ڈھیر سارے زیورات دلواؤں گا
ذیئزائنر کپڑوں کے ڈھیر لگا دوں گا
کتابوں کے آن لائن آرڈر بک کروادوں گا
تم جو کہوں گی وہ دلا دوں گا
بولو کیا مانگتی ہو ؟
اس نے بوتل میں بھرے وہ رنگ برنگے پتھر
جو محبت کے نرم دنوں میں دونوں نے اکھٹے کئے تھے
اس کے آگے کر دئے اور چٹان سی سختی سے بولی
ان پتھروں کو پہلے جیسا نرم کر دو ۔۔۔۔۔

روبینہ فیصل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے