Burzah

شاعر:
اے مِری رُوح تجھے
اب یہ برزخ کے شب و روز کہاں راس آئیں
عشق بپھرا ہوا دریا ہے ،ہوس خاک سیاہ
دست و بازوُ نہ سفینہ کہ یہ دریا ہو عبوُر
اور اس خاکِ سیاہ پر تو نشان کفِ پا تک نہیں
اُجڑے بے برگ درختوں سے فقط کاسہء سر آویزاں
کِسی سفّاک تباہی کی اَلمناک کہانی بن کر!
اے مِری رُوح، جُدائی سے حَزیں رُوح مِری
تجھے برزخ کے شب و روز کہاں راس آئیں؟

رُوح:
میرا ماوےٰ نہ جہنم، مِرا مَلجا نہ بہشت
برزخ اُن دونوں پر اِک خندہء تضحیک تو ھے
ایک برزخ ہے جہاں جوروستم، جودوکرم کچھ بھی نہیں
اس میں وہ نفس کی صَرصَر بھی نہیں
جسم کے طوُفاں بھی نہیں
مُبتلا جن میں ہم انسان سدا رھتے ھیں
ہم سیہ بخت زمیں پر ہوں، فلک پر ہوں کہیں
ایک برزخ ہے جہاں مَخمل و دیبا کی آسُودگی ہے
خوابِ سرما کی سی آسُودگی ہے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے