برگشتۂ یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے

برگشتۂ یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے

بھٹکے ہوئے انساں سے کچھ بھول ہوئی ہے

تا حّد نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن میں

پھولوں کے نگہباں سے کچھ بھول ہوئی ہے

جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی

اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے

ہنستے ہیں مری صورت مفتوں پہ شگوفے

میرے دل ناداں سے کچھ بھول ہوئی ہے

حوروں کی طلب اور مئے و ساغر سے ہے نفرت

زاہد! ترے عرفاں سے کچھ بھول ہوئی ہے

ساغر صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے