بنتی نہیں کسی بھی طرح اِندمال سے

بنتی نہیں کسی بھی طرح اِندمال سے
پہچان ورنہ اپنی پرانی ہے ڈھال سے

جوتے چمک اٹھے تو بدن ماند پڑ گئے
کیڑے بہت جھڑے تھے اجازت کی کھال سے

پہلے جواب نے ہی مجھے سرد کر دیا
تکرار یوں تو پھوٹ چکی تھی سوال سے

آخر ہمارے تن کو لگا رات کا عذاب
ہم رزق چھینتے رہے بھوکی چھنال سے

بدصورتی کے کان بھرے , گرد گھیر لی
خوش بخت آئنے کی ٹھنی ہے جمال سے

سورج گرا تو گرم بگولے بھی گر گئے
سہمے ہوئے تھے پیڑ ہوا کے جلال سے

ہم بھی غلیل دیکھنے پہنچے تھے باغ میں
تعلیم لے رہی تھی جو چیونٹی کی چال سے

ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے