بُن بست

بُن بست
اس بار وطن آنے کے بعد میں نے شہر میں دن دن بھر گھومنا شروع کیا اس لیے کہ میرے پاس کچھ کرنے کو نہیں تھا۔ میری اماں سلائی کڑھائی کاکام کرکے جو تھوڑی بہت رقم پیدا کرتی تھیں وہ ہم ماں بیٹوں کا پیٹ بھرنے کو کافی تھی، بلکہ میرے لیے تو ہمیشہ عمدہ کھانا پکتاتھا۔ اماں جیسا کچھ بھی کھاتی ہوں مگر مجھے دونوں وقت کھانے کو گوشت اور کوئی میٹھی چیز ضرور ملتی تھی۔صبح دودھ کے ساتھ کبھی جلیبی اور کبھی شیر مال کا ناشتہ کر کے میں گھر سے نکل جاتا تھا اور دوپہر تک شیش محل، حسین آباد، مفتی گنج سے لے کر ٹھاکر گنج، چوک، سعادت گنج تک کا چکر لگا لیتا تھا۔
میں نے کوئی دوست نہیں بنایا تھا اس لیے بغیر کسی سے بات کیے پرانی عمارتوں کو دیکھتا، تنگ گلیوں میں گھومتا پھرتا تھا۔ دوپہر کو گھر واپس آتا تو اماں کی نماز کی چوکی پرمیرا کھانا سینی سے ڈھکا رکھا ہوا ملتا تھا۔میں کھانا کھاتا، جھوٹے برتن کنویں کے پاس رکھ دیتا اور اسی چوکی پر کچھ دیر لیٹ کر سولیتا تھا۔سہ پہر کو اماں کام پر سے واپس آتیں تو میرے لیے کچھ نہ کچھ کھانے کو ضرور لاتی تھیں۔ کبھی کوئی نیا فصلی پھل، کبھی اکبری دروازے کی کوئی عمدہ مٹھائی اور کبھی بالائی کے پان جو مجھ کو بہت پسند تھے۔ مجھے بھوک نہیں ہوتی تھی، پھر بھی ان کی محبت سے دی ہوئی چیز تھوڑی سی کھا لیتا اور پھر گھومنے نکل جاتا تھا۔ اس وقت میں زیادہ گھومتا نہیں تھا بلکہ رومی دروازے کے برج میں بیٹھ کر شہر پر شام اترتے، پھر رات ہوتے دیکھتا۔ رات ہوتے وقت برج سے اتر کر بازاروں کا چکر لگاتا ہوا گھر واپس آجاتا جہاں اماں کھانا پکاتی ملتیں۔ اس وقت مجھ کو خوب گرم گرم کھانا ملتا۔ میرے آگے وہی گوشت، چاول لگتا تھا اور اماں کے آگے دہی چپاتی اور کوئی سادی ترکاری یا دال، لیکن میں زبردستی ان کو اپنے حصے میں سے کچھ کھلاتا اور زیادہ رات آنے سے پہلے ہی سوجاتا تھا۔
اس طرح دیکھا جائے تو خاصی آرام کی زندگی تھی، حالانکہ ہمارے گھر میں آرام کا سامان گویا کچھ تھا ہی نہیں۔ کھانے پکانے کے پانچ پچکے ہوئے برتن، ایک ٹوٹا ہوا نواڑی پلنگ، ایک ہلتی ہوئی نماز کی چوکی، لوٹا، بالٹی، معمولی بستر، ایک گھڑا، کٹورا اور کجھور کی دو چٹائیاں، یہ ہماری کل بساط تھی۔میرے پاس پہننے کے کپڑے بھی ڈھنگ کے نہیں تھے۔ صرف دو جوڑے تھے جو گھسنے کے قریب ہو گیے تھے اور اماں روز نیا جوڑا بنوانے کا ارادہ ظاہر کرتی تھیں۔رفتہ رفتہ میرے کپڑے چیتھڑوں کی شکل اختیار کرنے لگے جنہیں اماں کی کاریگری کسی طرح پہننے کے لائق رکھے ہوئے تھی۔ انہوں نے کبھی مجھ سے یہ نہیں کہا کہ مجھے بھی کچھ کام کرنا چاہیے۔ میری عمر اٹھائیس برس کی ہو چکی تھی لیکن مجھ کو نہ اپنی بڑھتی ہوئی عمر کا احساس تھا نہ اس کا خیال آتا تھا کہ میں خاصا تعلیم یافتہ ہوں۔اپنے ہم عمر جوانوں کو دیکھ کر بھی میں ان کی اور اپنی حالت کا مقابلہ نہیں کرتاتھا۔ اب سوچتا ہوں کہ وہ میری زندگی کا اچھا زمانہ تھا۔ لیکن ایک دن اس زمانے کا خاتمہ شروع ہوگیا۔
رات ہو گئی تھی اور میں رومی دروازے سے اتر کر گول دروازے سے ہوتا ہوا چوک میں سے گزر رہا تھا۔ بیچ چوک میں پہنچ کر مجھے محسوس ہوا کہ بازار میں سناٹا ہے اور دکانیں سب کی سب بند ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ شاید آج بازار بند رہنے کا دن ہے اور دل ہی دل میں ہفتے کے دنوں کا حساب لگا رہا تھا جو مہینے کی تاریخوں کی طرح مجھے کبھی یاد نہیں رہتے تھے۔ اتنے میں کہیں دور پر ایک شور سنائی دیا اور میرے قدم تیزی سے اٹھنے لگے۔ پھر کسی اور طرف سے بھی شور اٹھا اور اب مجھے پتا چلا کہ پورے چوک میں میرے سوا ایک بھی آدمی نہیں ہے۔ شور کچھ اور بڑھا اورچوک کی سڑک سے ادھر ادھر پھوٹنے والی گلیوں میں کچھ ہلچل سی پیدا ہوئی۔
کسی نے پکار کر کسی سے کچھ کہا اور مجھے مکانوں کے دروازے بندہونے کے دھڑاکے سنائی دیے، پھر روشنیوں کے ساتھ ایک ہجوم نظر آیا جو اکبری دروازہ کے نیچے سے گزر کر میری طرف بڑھ رہا تھا۔ مجھے اپنے داہنے ہاتھ والی چوڑی گلی میں بھی شور سنائی دیا اور میں بے سوچے سمجھے بائیں ہاتھ کی ایک تنگ گلی میں گھس گیا۔ کچھ دور بڑھ کر اس گلی کے پہلو میں ایک اور گلی مڑتی دکھائی دی۔ میں اس گلی میں مڑگیا، مگر کوئی پچاس قدم آگے بڑھ کر گلی آہستہ آہستہ ایک سمت گھومنا شروع ہوئی، پھر اچانک بند ہوگئی۔ اس اندھی گلی میں زیادہ تر مکانوں کے پچھواڑے تھے۔ صرف سامنے جہاں گلی ختم ہوتی تھی ، ایک صدر در وازہ نظر آرہا تھا۔ یہ دروازہ تھوڑا کھلا ہوا تھا۔ میں اس کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اندر سے کسی نے اسے بند کر لیا۔ میں کچھ اور آگے بڑھا تو دروازے کے دوسری طرف کنڈی لگنے کی کھڑکھڑاہٹ سنائی دی۔ مجھے محسوس ہوا کہ دوسری طرف جو کوئی بھی ہے اسے کنڈی چڑھانے میں کامیابی نہیں ہو رہی ہے۔
اسی وقت گلی کے دہانے کی طرف دوڑتے ہوئے قدموں کی آواز آئی اور میں نے لپک کر صدر دروازے کو اندر کی طرف دھکیلا۔دوسری جانب سے کمزور سی مزاحمت ہوئی۔ گلی کے دہانے پر آواز کے ساتھ کوئی چیز چمکی اور میں نے دروازے پر پورے بدن کا زور لگایا۔ دروازہ لمحہ بھر کو رک کر کھل گیا اور میں اس کی چوکھٹ پھاند کر اندر چلا گیا۔ تاریک ڈیوڑھی میں مجھے چوڑیوں کی کھنک اور ہلکی سی خوف زدہ چیخ سنائی دی، لیکن میں نے اس پر زیادہ دھیان دیے بغیر جلدی سے دروازہ بند کر کے اس سے اپنی پیٹھ لگا دی۔ ایک ہاتھ کو بڑی دقت سے پیچھے گھما کر میں نے کنڈی ٹٹولی اور چڑھا دی۔ ڈیوڑھی میں اب خاموشی تھی۔
’’یہاں کون ہے؟‘‘میں نے پوچھا۔
کوئی جواب نہیں ملا۔ میں کچھ دیر وہیں رکا رہا۔ مکان کے اندر خاموشی تھی۔ میں ڈیوڑھی کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھا۔ دروازے کے سامنے ایک دہلیز اتر کر پردے کی دیوار تھی۔ خود کو دیوار کی آڑ میں رکھ کر میں صحن میں اترا۔ میرا پیر ٹین کی کسی چیز سے ٹکرایا اور وہ چیزہلکی آواز کے ساتھ ایک طرف لڑھک گئی۔ مجھے قریب ہی مرغیوں کی کڑکڑاہٹ سنائی دی اور میں نے احتیاط کے ساتھ دیوار کے دوسری طرف جھانک کر دیکھا۔ سب کچھ دھندلا دھندلا تھا۔ سامنے ایک دالان نظر آرہا تھا جس کے بیچ والے در میں مدھم روشنی کی لالٹین لٹک رہی تھی۔میں نے پیر سے ٹٹول کر ٹین کی چیز کو ہلکی سی ٹھوکر ماری۔ اس کی آواز کے جواب میں پھر مرغیوں کی کڑکڑاہٹ سنائی دی۔ اب میں ذرا اطمینان کے ساتھ بیچ صحن میں آگیا۔ ہلکی روشنی میں مکان کا نقشہ میری سمجھ میں ٹھیک سے نہیں آیا لیکن اتنا اندازہ ہوتا تھا کہ صحن کے تین طرف دالان ہیں۔ اوپر کی منزل نہیں ہے اور ڈیوڑھی سے متصل باورچی خانہ، غسل خانہ، مرغی خانہ وغیرہ ہے۔ دالانوں کے پیچھے کوٹھریاں تھیں اور سب باہر سے بند معلوم ہوتی تھیں۔
اب مجھے اس کی فکر ہوئی جو ڈیوڑھی کے اندر سے دروازہ بند کرنا چاہتی تھی۔ میں ڈیوڑھی میں واپس آیا، کچھ دیر تک اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کرتا رہا۔ پھر بولا: ’’مجھ سے ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ میں خود ڈرا ہوا ہوں۔‘‘
کچھ جواب نہیں ملا۔ اب میں پھر صحن میں اترا۔ در میں لوہے کی آنکڑے دار چھڑ سے لٹکتی ہوئی لالٹین اتار کر پھر ڈیوڑھی میں آیا۔ لالٹین کی چمنی قریب قریب سیاہ ہو رہی تھی، پھر بھی تاریک ڈیوڑھی کے لیے اس کی روشنی کافی تھی۔ ڈیوڑھی خالی تھی لیکن اس کے ایک کونے سے متصل ایک نیچا سا دروازہ نظر آرہا تھا جو آدھا کھلا ہوا تھا۔ میں نے لالٹین والا ہاتھ دروازے کے اندر کیا، پھر سر اندر ڈال کر ادھر ادھر دیکھا۔ چھوٹی سی کوٹھری تھی جس میں دروازوں کے گلے ہوئے پٹ، پلنگوں کے پائے اور پٹیاں، ایک مسہری کا ڈھانچہ اور اس پر میلی نواڑ کے الجھے ہوئے لچھے اور اسی طرح کا دوسرا سامان بھرا ہوا تھا۔میں لالٹین کو گھما گھما کر کوٹھری کا جائزہ لے رہا تھا کہ نواڑ کے ایک بڑے سے لچھے میں مجھے ہلکی سی جنبش نظر آئی اور میں کوٹھری میں داخل ہو گیا۔ ایک عورت اس لچھے کے پیچھے چھپنے کی کوشش کررہی تھی۔
’’باہر آئیے۔‘‘میں نے کہا، ’’مجھ سے ڈریے مت۔‘‘
وہ خاموش رہی۔
’’میں جان کے ڈر سے یہاں چلا آیا تھا۔‘‘ میں نے کہا، ’’میں خود ڈراہوا ہوں لیکن اگر آپ کو مجھ سے ڈر لگ رہا ہے تو جاتا ہوں۔‘‘
وہ پھر بھی کچھ نہیں بولی، اور اچانک مجھے احساس ہوا کہ میں وہاں ہوں جہاں مجھ کو نہیں ہونا چاہیے تھے۔ میں نے کہا:’’باہر لوگ چاقو چھریاں لیے گھوم رہے ہیں۔ خیر، دیکھا جائے گا۔‘‘
اس کے بعد میں کوٹھری سے باہر آگیا۔ صدر دروازے کی کنڈی بہت کسی ہوئی تھی۔ لالٹین زمین پر رکھ کر میں دونوں ہاتھوں سے اسے کھولنے کی کوشش کررہا تھا کہ اپنی پشت پر مجھے کچھ حدت سی محسوس ہوئی اور میں نے پلٹ کر دیکھا۔زمین پر رکھی ہوئی لالٹین اوپر اٹھائی۔ اسی وقت مجھے اس کی آواز سنائی دی۔
’’آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟‘‘
’’گلی میں یہی ایک دروازہ تھا۔‘‘میں نے کہا۔ ’’لیکن اب جارہا ہوں۔‘‘
’’باہر کیا ہو گیاہے؟‘‘
’’معلوم نہیں۔ شاید کوئی جھگڑا ہو اہے۔‘‘
وہ دیر تک خاموش رہی اور مجھے پھر احساس ہوا کہ میں وہاں ہوں جہاں مجھ کو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میں نے ایک ہاتھ سے کنڈی کھولنے کی ناکام کوشش کی۔ مجھے یہ سوچ کر حیرت ہوئی کہ کچھ دیر پہلے میں نے پشت پر ہاتھ گھما کر اسے آسانی سے چڑھا دیا تھا۔ اتنے میں اس نے پوچھا:’’باہر خطرہ تو نہیں ہے؟‘‘
’’خطرہ؟‘‘میں نے کہا،’’کچھ نہیں ، سوا اس کے کہ جب باہر نکلوں گا تو ذبح کر دیا جاؤں گا۔‘‘
’’تو ابھی نہ جائیے۔‘‘اس نے کہا اور لالٹین میرے ہاتھ سے لے لی۔ اسی وقت باہر گلی میں دبا دبا سا شور اور بھاری چیزوں کے گرنے کی آوازیں سنائی دیں۔
’’اندر آجائیے۔‘‘اس نے کہا۔
میں اس کے پیچھے پیچھےصحن میں اترا۔ لالٹین اس نے بیچ والے در میں لٹکا دی۔ اب اس کا چہرہ قدرے صاف نظر آرہا تھا۔ ایک نگاہ میں وہ مجھ کو برسوں کی بیمار معلوم ہوئی۔ لیکن میں اسے ٹھیک سے دیکھ نہیں سکا۔ وہ دیر تک مجھ سے منہ پھیرے خاموشی کے ساتھ لالٹین کو دیکھتی رہی۔ پھر اسی طرح منہ پھیرے پھیرے دالان کی طرف اشارہ کر کے بولی:’’بیٹھئے، آپ نے ابھی کھانا بھی نہیں کھایا ہوگا۔‘‘ مجھے واقعی بہت بھوک لگ رہی تھی لیکن میں نے کہا:’’نہیں بھوک نہیں ہے۔‘‘
’’ہم کچھ لاتے ہیں۔‘‘ اس نے کہا، ’’آپ بیٹھیے۔‘‘
میں نے اسے ڈیوڑھی کی طرف جاتے دیکھا۔ کچھ دیر تک برتنوںکی کھڑکھڑاہٹ سنائی دیتی رہی اور میں دالان میں ایک چھوٹی چوکی پر بیٹھا لالٹین کی کالی چمنی کو دیکھتا رہا۔ پھر میں نے دیکھا کہ وہ ایک گول سینی اٹھائے ہوئے روشنی کی طرف آرہی ہے۔ دالان میں آکر اس نے سینی چوکی پر رکھ دی اور بولی:’’اس وقت یہی ہے۔‘‘ میں نے سینی کی طرف دیکھا۔ اس میں دو تین برتن تھے لیکن یہ نظر نہیں آتا تھا کہ برتنوں میں کیا ہے۔
’’آپ نے خوامخوہ تکلیف کی۔‘‘میں نے کہا،’’مجھے کوئی خاص بھوک نہیں تھی۔‘‘
’’آپ شروع کیجئے‘‘وہ بولی،’’ہم پانی لا رہے ہیں۔‘‘
میں نے اسے صحن کی طرف مڑتے دیکھا لیکن اسی وقت لالٹین ہلکی آواز کے ساتھ بھڑکنے لگی، وہ لالٹین کے بالکل نیچے تھی۔ اس نے سر اٹھا کر لالٹین کو دیکھا، پھر مجھ کو، اور اب وہ پہلے کی طرح ڈری ہوئی معلوم ہونے لگی۔
’’آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔‘‘ اس نے گھٹی گھٹی آواز میں کہا۔ اس کے ساتھ ہی لالٹین آخری بار بھڑکی اور بجھ گئی۔گھپ اندھیرے میں مجھے چوڑیوں کی کھنک اور کپڑوں کی سرسراہٹ سنائی دی۔ پھر دالان میں میری پشت پر کوئی دروازہ کھلا اور دھڑاکے کے ساتھ بند ہو گیا۔ اب مکان میں سناٹا تھا، البتہ کہیں بہت دور پرشور ہو رہا تھا۔
میں اسی اندھیرے میں اٹھ کر اندازے سے ڈیوڑھی کی طرف چلا۔ پردے کی دیوار کامجھ کو خیال نہیں رہا تھا اس لیے میں نے پہلی ٹکر اسی سے کھائی۔ سنبھلنے کی کوشش میں ایک بار پھر ٹین کی وہ چیز میری ٹھوکر میں آئی اور کچھ دور تک لڑھکتی چلی گئی۔ مرغی خانے میں کسی مرغ نے زور سے پر پھٹپھٹا کر بانگ دی اور میں ڈیوڑھی میں داخل ہو گیا۔ صدر دروازے کی کسی ہوئی کنڈی میں نے ایک جھٹکے میں کھول لی اور باہر نکل آیا۔
چند قدم چل کر مجھے خیال آیا کہ صدر دروازے کا ایسے وقت میں کھلا رہنا ٹھیک نہیں ہے لیکن اسے اندر سے بند کر کے باہر آجانا میرے بس کی بات نہیں تھی، اس لیے اسے یوں ہی چھوڑ کر میں بند گلی سے باہر آگیا۔
نیر مسعود

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے