Buland Haath Mein Kasaa Hai

بلند ہاتھ میں کاسہ ہے دستِ خالی کا

حرم کی سمت سفر ہے یہ مجھ سوالی کا

کبھی کبھی مری آنکھوں میں آ کے دیکھتی ہے

یہ اشتیاق عجب ہے لہو کی لالی کا

یہ واقعہ ہے کہ سارے جہاں میں شہرہ ہے

حضور! آپ کے صحرا کی خوش جمالی کا

خیال بس میں نہیں , لفظ دسترس میں نہیں

قصیدہ کیسے کہوں پیکر مثالی کا

مجال کیا کہ سمندر کو میں سمیٹ سکوں

کہ میرا ظرف ہے ٹوٹی ہوئی پیالی کا

ملالِ بے ہنری کیا چھپاؤں آپ سے میں

کہ مجھ کو رنج ہے خود اپنی بے کمالی کا

میں اپنے کرب کو سب سے زیادہ جانتا ہوں

سو ترجمان ہوں اپنی ہی خستہ حالی کا

کسے بتاؤں کہ برگ و ثمر کے ہوتے ہوئے

مری زمین پہ موسم ہے خشک سالی کا

حضور! وہ بھی تو اک چوب خشک تھی جس کو

دیا تھا آپ نے اعزاز لمسِ عالی کا

حضور! میں بھی تو سوک ہے شجر کی صورت ہوں

مج ہے بھی خوف ہے لوگوں سے پائمالی کا

حضور! آپ نے تو گردنیں چھڑا دی تھیں

مجھے بھی حکم ہو پھر سے مری بحالی کا

حضور! میں نے سنا ہے کہ آپ کے در پر

سوال رد نہیں ہوتا کسی سوالی کا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے