بجھ گئی آگ ' سو میں اپنی تن آسانی کو

بجھ گئی آگ ‘ سو میں اپنی تن آسانی کو
اوڑھ لیتا ہوں ترے جسم کی عُریانی کو

خوف کھائیں گے تو مر جائیں گے ویرانے میں
تُم زرا آگ جلاؤ ‘ میں چلا پانی کو

بے سبب کوئی یہاں دشت و بیاباں لایا
ہجر کافی تھا مری آنکھ کی ویرانی کو

واپس آئے تو در و بام بھی اپنے نہ رہے
ہم جو گھر چھوڑ کے نکلے تھے جہاں بانی کو

پہرہ داروں نے مرے قتل میں عجلت کی ہے
میں تو آیا تھا ترے گھر کی نگہبانی کو

میں تو سیلاب سے کہتا ہوں مرے گھر آؤ
اور لے جاؤ مری بے سرو سامانی کو

وہ اگر ڈھانپ دے تعبیر سے مجھ کو نیّرؔ
چھوڑ دوں خوابِ پیشماں کی پیشمانی کو

شہزاد نیّرؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے