بدصورتی

بدصورتی

ساجدہ اورحامدہ دو بہنیں تھیں۔ ساجدہ چھوٹی اور حامدہ بڑی۔ ساجدہ خوش شکل تھی۔ ان کے ماں باپ کو یہ مشکل درپیش تھی کہ ساجدہ کے رشتے آتے مگر حامدہ کے متعلق کوئی بات نہ کرتا۔ ساجدہ خوش شکل تھی مگر اس کے ساتھ اسے بننا سنورنا بھی آتا تھا۔ اس کے مقابلے میں حامدہ بہت سیدھی سادھی تھی۔ اس کے خدوخال بھی پرکشش نہ تھے۔ ساجدہ بڑی چنچل تھی۔ دونوں جب کالج میں پڑھتی تھیں تو ساجدہ ڈراموں میں حصہ لیتی۔ اس کی آواز بھی اچھی تھی، سر میں گا سکتی تھی۔ حامدہ کو کوئی پوچھتا بھی نہیں تھا۔ کالج کی تعلیم سے فراغت ہوئی تو ان کے والدین نے ان کی شادی کے متعلق سوچنا شروع کیا۔ ساجدہ کے لیے کئی رشتے تو آچکے تھے، مگر حامدہ بڑی تھی اس لیے وہ چاہتے تھے کہ پہلے اس کی شادی ہو۔ اسی دوران میں ساجدہ کی ایک خوبصورت لڑکے سے خط و کتابت شروع ہو گئی جو اس پربہت دنوں سے مرتا تھا۔ یہ لڑکا امیر گھرانے کا تھا۔ ایم اے کر چکا تھا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ جانے کی تیاریاں کررہا تھا۔ اس کے ماں باپ چاہتے تھے کہ اس کی شادی ہو جائے تاکہ وہ بیوی کو اپنے ساتھ لے جائے۔ حامدہ کو معلوم تھا کہ اس کی چھوٹی بہن سے وہ لڑکا بے پناہ محبت کرتا ہے۔ ایک دن جب ساجدہ نے اسے اس لڑکے کا عشقیہ جذبات سے لبریز خط دکھایا تووہ دل ہی دل میں بہت کُڑھی، اس لیے کہ اس کا چاہنے والا کوئی بھی نہیں تھا۔ اس نے اس خط کا ہر لفظ بار بار پڑھا اور اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کے دل میں سوئیاں چبھ رہی ہیں، مگر اس نے اس درد و کرب میں بھی ایک عجیب قسم کی لذت محسوس کی، لیکن وہ اپنی چھوٹی بہن پر برس پڑی:

’’تمہیں شرم نہیں آتی کہ غیر مردوں سے خط و کتابت کرتی ہو!‘‘

ساجدہ نے کہا۔

’’باجی۔ اس میں کیا عیب ہے!‘‘

’’عیب!۔ سراسر عیب ہے۔ شریف گھرانوں کی لڑکیاں کبھی ایسی بے ہودہ حرکتیں نہیں کرتیں۔ تم اس لڑکے حامد سے محبت کرتی ہو؟‘‘

’’ہاں‘‘

’’لعنت ہے تم پر‘‘

ساجدہ بھنا گئی۔

’’دیکھو باجی مجھ پر لعنتیں نہ بھیجو۔ محبت کرنا کوئی جرم نہیں۔ ‘‘

حامدہ چلائی۔

’’محبت محبت۔ آخر یہ کیا بکواس ہے۔ ‘‘

ساجدہ نے بڑے طنزیہ انداز میں کہا۔

’’جو آپ کو نصیب نہیں۔ ‘‘

حامدہ کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کہے۔ چنانچہ کھوکھلے غصے میں آکر اس نے چھوٹی بہن کے منہ پر زور کا تھپڑ مار دیا۔ اس کے بعد دونوں ایک دوسرے سے الجھ گئیں۔ دیر تک ان میں ہاتھا پائی ہوتی رہی۔ حامدہ اس کو یہ کوسنے دیتی رہی کہ وہ ایک نامحرم مرد سے عشق لڑا رہی ہے، اور ساجدہ اس سے یہ کہتی رہی کہ وہ جلتی ہے اس لیے کہ اس کی طرف کوئی مرد آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ حامدہ ڈیل ڈول کے لحاظ سے اپنی چھوٹی بہن کے مقابلے میں کافی تگڑی تھی، اس کے علاوہ اسے خار بھی تھی جس نے اس کے اندر اور بھی قوت پیدا کردی تھی۔ اس نے ساجدہ کو خوب پیٹا۔ اس کے گھنے بالوں کی کئی خوبصورت لٹیں نوچ ڈالیں اور خود ہانپتی ہانپتی اپنے کمرے میں جا کر زار و قطار رونے لگی۔ ساجدہ نے گھر میں اس حادثے کے بارے میں کچھ نہ کہا۔ حامدہ شام تک روتی رہی۔ بے شمار خیالات اس کے دماغ میں آئے۔ وہ نادم تھی کہ اس نے محض اس لیے کہ اس سے کوئی محبت نہیں کرتا اپنی بہن کو، جو بڑی نازک ہے، پیٹ ڈالا۔ وہ ساجدہ کے کمرے میں گئی۔ دروازے پر دستک دی اور کہا۔

’’ساجدہ!‘‘

ساجدہ نے کوئی جواب نہ دیا۔ حامدہ نے پھر زور سے دستک دی اور رونی آواز میں پکاری۔

’’ساجی! میں معافی مانگنے آئی ہوں۔ خدا کے لیے دروازہ کھولو۔ ‘‘

حامدہ دس پندرہ منٹ تک دہلیز کے پاس آنکھوں میں ڈبڈبائے آنسو لیے کھڑی رہی، اسے یقین نہیں تھا کہ اس کی بہن دروازہ کھولے گی، مگر وہ کُھل گیا۔ ساجدہ باہر نکلی اور اپنی بڑی بہن سے ہم آغوش ہو گئی۔

’’کیوں باجی۔ آپ رو کیوں رہی ہیں؟‘‘

حامدہ کی آنکھوں میں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔

’’مجھے افسوس ہے کہ تم سے آج بیکار لڑائی ہو گئی۔ ‘‘

’’باجی۔ میں بہت نادم ہوں کہ میں نے آپ کے متعلق ایسی بات کہہ دی جو مجھے نہیں کہنی چاہیے تھی۔ ‘‘

’’تم نے اچھا کیا ساجدہ۔ میں جانتی ہوں کہ میری شکل و صورت میں کوئی کشش نہیں۔ خدا کرے تمہارا احسن قائم رہے۔ ‘‘

’’باجی!۔ میں قطعاً حسین نہیں ہوں۔ اگر مجھ میں کوئی خوبصورتی ہے تو میں دعا کرتی ہوں کہ خدا اسے مٹا دے۔ میں آپ کی بہن ہوں۔ اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں اپنے چہرے پر تیزاب ڈالنے کے لیے تیار ہوں۔ ‘‘

’’کیسی فضول باتیں کرتی ہو۔ کیا بگڑے ہوئے چہرے کے ساتھ تمہیں حامد قبول کرلے گا؟‘‘

’’مجھے یقین ہے۔ ‘‘

’’کس بات کا؟‘‘

’’وہ مجھ سے اتنی محبت کرتا ہے کہ اگر میں مر جاؤں تو وہ میری لاش سے شادی کرنے کے لیے تیار ہو گا۔ ‘‘

’’یہ محض بکواس ہے‘‘

’’ہو گی۔ لیکن مجھے اس کا یقین ہے۔ آپ اس کے سارے خط پڑھتی رہی ہیں۔ کیا ان سے آپ کو یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ مجھ سے کیا کیا پیمان کر چکا ہے۔ ‘‘

’’ساجی۔ ‘‘

یہ کہہ کر حامدہ رک گئی۔ تھوڑے وقفے کے بعد اس نے لرزاں آواز میں کہا۔

’’میں عہد و پیمان کے متعلق کچھ نہیں جانتی۔ ‘‘

اور رونا شروع کردیا۔ اس کی چھوٹی بہن نے اسے گلے سے لگایا۔ اس کو پیار کیا اور کہا

’’باجی۔ آپ اگر چاہیں تو میری زندگی سنور سکتی ہے۔ ‘‘

’’کیسے؟‘‘

’’مجھے حامد سے محبت ہے۔ میں اس سے وعدہ کرچکی ہوں کہ اگر میری کہیں شادی ہو گی تو تمہیں سے ہو گی۔ ‘‘

’’تم مجھ سے کیا چاہتی ہو؟‘‘

’’میں یہ چاہتی ہوں۔ کہ آپ اس معاملے میں میری مدد کریں۔ اگر وہاں سے پیغام آئے تو آپ اس کے حق میں گفتگو کیجیے۔ امی اور ابا آپ کی ہر بات مانتے ہیں۔ ‘‘

’’میں انشاء اللہ تمہیں ناامید نہیں کروں گی۔ ‘‘

ساجدہ کی شادی ہو گئی، حالانکہ اس کے والدین پہلے حامدہ کی شادی کرنا چاہتے تھے۔ مجبوری تھی، کیا کرتے۔ ساجدہ اپنے گھر میں خوش تھی۔ اس نے اپنی بڑی بہن کو شادی کے دوسرے دن خط لکھا جس کا مضمون کچھ اس قسم کا تھا:

’’میں بہت خوش ہوں۔ حامد مجھ سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔ باجی۔ محبت عجیب وغریب چیز ہے۔ میں بے حد مسرور ہوں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کا صحیح مطلب اب میری سمجھ میں آیا ہے۔ خدا کرے کہ آپ بھی اس مسرت سے محظوظ ہوں۔ ‘‘

اس کے علاوہ اور بہت سی باتیں اس خط میں تھیں جو ایک بہن اپنی بہن کو لکھ سکتی ہے۔ حامدہ نے یہ پہلا خط پڑھا اور بہت روئی۔ اسے ایسا محسوس ہوا کہ اسکا ہرلفظ ایک ہتھوڑا ہے جو اس کے دل پر ضرب لگا رہا ہے اس کے بعد اس کو اور بھی خط آئے جن کو پڑھ پڑھ کے اس کے دل پر چھریاں چلتی رہیں۔ رو رو کر اس نے اپنا براحال کرلیا تھا۔ اس نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ کوئی راہ چلتا جوان لڑکا اس کی طرف متوجہ ہو، مگر ناکام رہی۔ اسے اس عرصے میں ایک ادھیڑ عمر کا مرد ملا۔ بس میں مڈبھیڑ ہوئی۔ وہ اس سے مراسم قائم کرنا چاہتاتھا مگر حامدہ نے اسے پسند نہ کیا۔ وہ بہت بد صورت تھا۔ دو برس کے بعد اس کی بہن ساجدہ کا خط آیا کہ وہ اور اس کا خاوند آرہے ہیں۔ وہ آئے۔ حامدہ نے مناسب و موزوں طریق پر ان کا خیر مقدم کیا۔ ساجدہ کے خاوند کو اپنے کاروبار کے سلسلے میں ایک ہفتے تک قیام کرنا تھا۔ ساجدہ سے مل کر اس کی بڑی بہن بہت خوش ہوئی۔ حامد بڑی خوش اخلاقی سے پیش آیا۔ وہ اس سے بھی متاثر ہوئی۔ وہ گھر میں اکیلی تھی، اس لیے کہ اس کے والدین کسی کام سے سرگودھا چلے گئے تھے۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ حامدہ نے نوکروں سے کہا کہ وہ بستروں کا انتظام صحن میں کردے اور بڑا پنکھا لگا دیا جائے۔ یہ سب کچھ ہو گیا۔ لیکن ہوا یہ کہ ساجدہ کسی حاجت کے تحت اوپر کوٹھے پر گئی اور دیر تک وہیں رہی۔ حامد کوئی ارادہ کرچکا تھا۔ آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں۔ اٹھ کر

’’ساجدہ‘‘

کے پاس گیا اور اس کے ساتھ لیٹ گیا۔ لیکن اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ غیر سی کیوں لگتی ہے۔ کیوں کہ وہ شروع شروع میں بے اعتنائی برتتی رہی۔ آخر میں وہ ٹھیک ہو گئی۔ ساجدہ کوٹھے سے اتر کر نیچے آئی اور اس نے دیکھا۔ صبح کو دونوں بہنوں میں سخت لڑائی ہوئی۔ حامد بھی اس میں شامل تھا۔ اس نے گرما گرمی میں کہا:

’’تمہاری بہن، میری بہن ہے۔ تم کیوں مجھ پر شک کرتی ہو۔ ‘‘

حامد نے دوسرے روز اپنی بیوی ساجدہ کو طلاق دے دی اور دو تین مہینوں کے بعد حامدہ سے شادی کرلی۔ اس نے اپنے ایک دوست سے جس کو اس پر اعتراض تھا، صرف اتنا کہا۔

’’خوبصورتی میں خلوص ہونا ناممکن ہے۔ بدصورتی ہمیشہ پرخلوص ہوتی ہے۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے