بدگمانی سے بچو 

بدگمانی سے بچو 
سکول میں کھیل کا پیریڈ ختم ہوا،تمام طلباء نے کھیل والا لباس اتارا اور دوبارہ سکول والے کپرے پہن لئے۔تمام طلباء نے کھیل والے کپرے لئے اور ان کو سکول کی الماری میں رکھ دیا۔مگر محمود نے اپنا لباس اتارا اور الماری کی بجائے ایک جانب رکھ دیا۔
کچھ دیر بعدجب محمود نے لباس کی طرف دیکھا اور اپنے لباس کو تلاش کرنے لگا مگر اس کو لباس دکھائی نہ دیا۔اس نے ہر جگہ تلاش کیا،اپنے دوستوں کے ساتھ تلاش کیا مگر کہیں نہ ملا،محمود اپنے دوست عدنان کی طرف متوجہ ہوا اور اس کے چہرے کے تاثرات عجیب قسم کے تھے اور وہ خاموشی سے محمود کے ساتھ لباس تلاش کررہا تھا۔اور اس نے محسوس کیا کہ عدنان کوئی چیز الماری میں چھپا رہا ہے۔اور جب محمود اس کے قریب گیا تو عدنان کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا گویا کہ وہ کوئی معاملہ چھپا رہا ہو۔
محمود کے شک میں اضافہ ہوگیا۔اس کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اپنے دوست عدنان پر چوری کا الزام لگا دیا۔
محمود کھیل والے استاد کی طرف گیا اور اس کو تمام معاملہ بتا دیا۔
استاد نے کہا: ”محمود بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔یہ ٹھیک نہیں ہے کہ تم صرف شک کی بنیاد پر اپنے دوست عدنان پر چوری کا الزام لگاو۔یہ صرف تمارے دماغ کا وہم ہے۔“
ایسا نہیں ہوسکتا۔لیکن محمود اس بات پر زور دے رہا تھا کہ لباس محمود نے ہی چوری کیا ہے۔
سکول کا وقت ختم ہونے پر محمود نے اپنی کتابیں بستے میں رکھیں۔
جب اس نے اپنا کھیل والا لباس لپٹا ہوا کتابوں کے نیچے دیکھا تو اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔لیکن لباس کی بستہ میں موجودگی پر حیران تھا کہ یہ لباس بستہ میں کیسے آگیا۔
اس نے دل میں سوچا”عدنان ڈر گیا ہوگا کہ کہیں اس کا معاملہ ظاہر نہ ہوجائے اس لئے اس نے اس کو بستہ میں چھپا دیا“۔
اسی دوران مصطفی محمود کے قریب ہوا اور کہا”مجھے اپنے دوستوں سے معلوم ہوا کہ تم کھیل والا لباس تلاش کررہے تھے مگر نہیں ملا۔اور میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں تاکہ تم کو بتا دوں۔دراصل آپ کا لباس زمین پر گرا ہو ا دیکھا اور مجھے ڈر تھا کہ کوئی اٹھا نہ لے یا اس کے اوپر کسی کا پاوں نہ آجائے اس لئے اس کو اٹھا کر میں نے آپ کے بستہ میں رکھ دیا اور آپ کو بتانا بھول گیا۔
استاد نے محمود کی طرف ناراضی اور ملامت کی نظر سے دیکھا اور اس کو کہا”کیا تم نے دیکھا ہے کہ تم نے اپنے دوست عدنان پر الزام لگا کر کتنا ظلم کیا ہے؟
محمود اپنے استاد کے قریب ہوا اور کہا”واقعی یہ سچ ہے کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔معاف کیجیے استاد محترم: آئندہ بغیر کسی ثبوت کے کسی پر الزام نہیں لگاوں گا۔اور محمود نے اپنے
دوست عدنان سے معافی مانگی کہ اس نے اس پر بلاوجہ الزام لگایا ہے۔اور وہ آئیندہ اپنے دوست کو کبھی شرمندہ نہیں کرے گا۔
محمد سرفراز اجمل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے