بہت ہی سرد ہے موسم

کھلے نہ بال چھوڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم
گرم کوئی شال اوڑھو تم، بہت ہی سرد ہے موسم

برسی ہے باغیچے میں، پوری رات ہی شبنم
نہ ننگے پاؤں دوڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم

بہت نازک طبیعت ہو، میری مانو یہ مت کرنا
نہ گیلے پھول توڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم

برف پہ دل بنانا یوں، تمھیں بیمار کردے گا
میری جاں ضد یہ چھوڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم

ٹھٹھرنے سے تو بہتر ہے، پاس چمنی کے سنگ بیٹھیں
گاڑی گھر کو موڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم

طارق اقبال حاوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے