بکھرتے ہی گئے سب خواہشوں کے ساز، کیا کرتے

بکھرتے ہی گئے سب خواہشوں کے ساز، کیا کرتے
تری لَے اور تھی کچھ اور تھی آواز، کیا کرتے
کمالِ ضبط پر میرے بھلا وہ ناز کیا کرتے
ستانے آئے تھے مجھ کو وہ چارہ ساز، کیا کرتے
جنھوں نے چادروں کو پھاڑ کر سینے چھُپائے ہوں
وہ اپنی مُفلسی میں اور پس انداز کیا کرتے
ہماری گفتگو کی جب دھنک بھی قید کر ڈالی
تو مجبوراً ہمیں کرنی پڑی پرواز، کیا کرتے
ضرورت تھی جنھیں تیری وفاؤں کے گھروندے کی
ترے وعدوں کی خالی سیپیوں پر ناز کیا کرتے
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے