بگڑتا زخم ہنر آشکارا کرنا پڑا

بگڑتا زخم ہنر آشکارا کرنا پڑا
ہمیں بھی داد کا مرہم گوارا کرنا پڑا
بہت ہوس تھی مجھے رزق شعر کی لیکن
جو مل رہا تھا اسی پر گزارا کرنا پڑا
کھڑی تھی میرے لئے آنسوؤں کی بارش میں
سو تیری یاد سے ملنا گوارا کرنا پڑا
میں اس سے کم پہ زمانہ مرید کر لیتا
خیال عشق میں جتنا تمہارا کرنا پڑا
ملا نہ ایک بھی آنسو درون چشم مجھے
سو منہ چھپا کے دکھوں سے کنارہ کرنا پڑا
جو خواب نیند سے بھی چھپ کے دیکھتا تھا میں
کسی کی آنکھ سے اس کا نظارہ کرنا پڑا
نگاہ یار نے کچھ ایسے عیب ڈھونڈھ لیے
تمام کار محبت دوبارہ کرنا پڑا
اب اس سفر کی صعوبت کا کیا کہیں جس میں
قدم قدم پہ ہمیں استخارہ کرنا پڑا
سنبھالی جاتی نہیں روشنی زمیں سے کبیرؔ
سپرد خاک یہ کیسا ستارہ کرنا پڑا
ڈاکٹر کبیر اطہر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے