بھٹو کی وراثت اور بلاول

بھٹو کی وراثت اور بلاول

بلاول بھٹو تاریخ کے اُس موڑ پر آن کھڑا ہوا ہے جہاں اسکو چیئرمین بھٹو کی مزاحمتی سیاست اور اپنے آسان مستقبل دونوں میں سے ایک کو چُننا پڑے گا۔ آسان مستقبل کی کُنجی اسکے اجداد کے قاتلوں کے ہاتھ میں جبکہ مزاحمت کا راستہ اسکے اپنے خمیر میں کروٹیں لے رہا ہے۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے قانون سازی عمران خان کی مجبوری ہے ورنہ اسکے ہینڈلرز کا اعتماد جاتا رہے گا۔ جبکہ شہباز لیگ نے بلا چوں چرا اپنا ووٹ باجوہ صاحب کے پلڑے میں ڈال کر دائیں بازو کی قوتوں پر سبقت حاصل کر لی ہے ۔ دوسری طرف مریم نواز نے صحافیوں سے ٹیلی فونک گفتگو میں اس بیانئے سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے اور اگلے چوبیس گھنٹوں میں بڑے میاں صاحب کیجانب سے یا پھر خود مریم نواز کیطرف سے سیاست سے لاتعلقی سمیت کسی دیگر سٹانس کی خبروں کو گردش دیدی گئی ہے۔ بحر صورت بڑے میاں چھوٹے میاں مخالف پچوں پر کھڑے ہو کر اپنے روائتی سسپنس کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

غیر متوقعہ طور پر باچا خان مرکز نے بھی آرمی چیف کی حمائیت کا اعلان کر دیا ہے اور قوی امکان ہے کہ سردار اختر مینگل کے سوا سبھی حکومتی اتحادی اور دائیں بازو کی سیاست کرنے والے باجوہ صاحب کے پیج پر اکٹھے ہو جائیں گے۔ پیچھے رہ جاتی ہے پیپلز پارٹی اور پشتون تحفظ موومنٹ تو دو رکنی پارلیمانی PTM سے تو سامراجی ایجنٹوں کی حمائیت کی کوئی امید نہیں مگر پیپلزپارٹی کا موقف واضع ہونا ابھی باقی ہے۔

بھٹو صاحب نے پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد جو نظریہ اپنایا بظاہر وہ انہیں پھانسی گھاٹ تک لے گیا اسی طرح بی بی شہید نے اپنے بابا کی گرفتاری اور بالخصوص انکی شہادت کے بعد جو روپ اپنایا وہی 27 دسمبر 2007 کا پیش خیمہ بنا۔ محترمہ نصرت بھٹو کی اپنے شوھر تئیں وفاداری اور مزاحمت نے انہیں وہ چوٹ دی جو انہیں بسترِ مرگ تک لے گئی اسی طرح آصف زرداری نے جس جواں مردی سے بدماشیہ اور اسکے چٹے بٹوں کی قید اور تشدد سہا وہ بھی پارٹی تاریخ کا روشن باب ہے اور یہ وہ وراثت ہے جو ناقدین کے نزدیک پرچی اور حقیقت میں اس گندے سماج کو بچانے کیلئے بینظیر ماں کی قربانی دیکر بلاول کے ترکے میں آئی۔ یہی نہیں لاکھوں کارکنان کی لازوال قربانیوں کی امانت داری بھی بلاول بھٹو کے سپرد ہے اور یہی وجہ ہے کہ کھُلے دُشمن کے حق میں قانون سازی پر غیر واضع موقف پر کارکنان تلملا اٹھے ہیں۔

جیسے نیا پاکستان اور ریاستِ مدینہ کا نعرہ اس قوم کیلئے ایک شراپ تھا بالکل ویسے ہی یہ نظریہ کہ "ہم فرد کے مخالف ہیں ادرے کے نہیں” بھی سفید جھوٹ ہے جس نے پیپلز پارٹی کو دن بدن کھوکھلا کیا ہے۔ ہم ضیاء الحق اور مشرف کے لاکھوں ماتحتوں کی ادارہ جاتی مجبوری سمجھنے کی ایکٹنگ تو کر لیتے ہیں مگر اسکے لیئے ہمیں ان لاکھوں مظالم سے چشم پوشی کرنی پڑتی ہے جنکے گھاو بلاول بھٹو کے جسم اور اسکے کارکنان کی روحوں پر لگے ہیں۔ کیوں ایک واضع نقطہ نظر ایک مزاحمتی لاءِ عمل ہم سے چھین لیا گیا ہے؟ کیا اقتدار کے ایوانوں میں ٹہلنا ایسا دلکش ہے کہ ہم بھٹو شہید کے قاتلوں سے مفاہمت کر لیں یا شہید رانی، محترمہ نصرت بھٹو، میر مرتضی، شاہنواز بھٹو کے جنازوں، آصف علی زرداری کی کٹی ہوئی زبان اور پھانسیوں پر جھولتے سڑکوں، پارکوں میں کوڑے کھاتے، گھر بار کاروبار لٹا کر جیلوں میں "بھٹو زندہ ہے” کے نعرے لگاتے کارکنان کو بے حمیت کر دیں؟

جونیجو لیگ سے قاف لیگ تک اور ایم کیو ایم سے پی ٹی آئی تک ساری لیگیں اور پارٹیاں ایک پیپلزپارٹی کی دشمنی میں کھڑی کی گئیں لہذا بطور طفیلی وہ تو آمریت کے نمائندہ عہدے کے دوام کو ووٹ دیں، پیپلز پارٹی کسطرح اسے سپورٹ کر سکتی ہے یہ سوال لاکھوں جیالوں کو کل سے پاگل کر رہا ہے۔ ہمیں نظر کیوں نہیں آ رہا کہ شہباز شریف کی ٹویٹر سٹیٹمنٹ کے نیچے گالیاں نکالنے والے کارکن اسکی اپنی جماعت کے ہیں جنہوں نے سالوں اسکی ایڈمنسٹریشن کے قصیدے پڑھے ہیں جبکہ بلاول بھٹو کی مبہم سٹیمنٹ کے نیچے تاویلیں گھڑنے والے وہ ہیں جنکے اجداد عشقِ بھٹو کے نام پر اپنی زندگیاں گلا کر نسلیں تباہ کر چکے ہیں۔

تاریخ کسی کی نہیں ہوتی یہ ہمیشہ سرفروشوں کی گرویدہ رہتی ہے۔ انسانی تاریخ میں جھک جانے والے کبھی ممتاز نہیں ہوتے اور حق کیلئے کٹ مرنے والوں کو بڑے سے بڑا آمر بھی نہیں مار سکتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے پاس ہر آپشن کھلی تھی۔ وہ عالمی لیڈروں کے بھیجے کمانڈوز آپریشن سے لیکر صدارتی معافی نامے پر دستخط کرنے سمیت بیسیوں آپشنز پر عمل کر کے اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی بچاسکتا تھا۔ صرف اسی کو ادراک تھا کہ اسکے قاتل اسکو نہیں اس ملک کے تابناک مستقبل کو قتل کرنے جا رہے ہیں مگر اس نے سرنڈر کر کے تاریخ کے ہاتھوں قتل ہونے سے سر اٹھا کر ہمیشہ زندہ رہنے کو ترجیح دی۔ بینظیر بھٹو سانحہ کارساز کے بعد عقل کے ناخن لے سکتی تھی مگر اس نے مسکراتے ہوئے موت کی آنکھوں سے نیند اڑا دی۔ وہ بھٹو تھی، ذوالفقار علی بھٹو کا خون جو موت کو سامنے دیکھ کر موج میں آ گئی، ڈٹ گئی، کٹ مری مگر امر ہو گئی۔

آج جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن زندگی موت کا مسئلہ نہیں ہے مگر پیپلز پارٹی کے ازلی دشمن کی سہولتکاری نے کارکنوں کے دل و دماغ میں آگ لگا دی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ شہباز لیگ کے بروقت جھکاو کے بعد اپوزیشن الٹی بھی ہو جائے تو اس قانون سازی کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی مگر وہ قیادت سے ایسے ردِ عمل کی امید کرتے ہیں جو حق و باطل کی تفریق کرے، جو قاتلانِ بھٹو اور وارثانِ بھٹو میں لکیر کھینچے۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو بظاہر ہر حالت میں بلاول کے ساتھ کھڑے رہیں گے مگر انکے دل و دماغ میں جاری جنگ انکے تحرک پر اثر انداز ضرور ہوگی۔ دنیا داروں کی نظر میں یہ سیاسی خود کشی کے مترادف ہوگا اور اس بل کو سپورٹ کر کے ایسٹیبلشمنٹ کیساتھ اعتماد سازی کی فضاء پیدا کرنے میں معاونت ملے گی مگر عاشقوں کے نزدیک اسکی مخالفت سے پیپلز پارٹی کی گم گشتہ روح واپس اپنے وجود اندر حلول کر جائے گی۔ میاں صاحب کے کارکنان سینٹ چیئرمین کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی میں شہباز شریف کے کردار کو تو سہہ گئے مگر کل جب اس نے بوٹوں کو عزت دینے کا نعرہ بلند کیا تو وہی کارکنان چھوٹے میاں کو گالیاں دینے سے بھی نہیں چُوکے اور انکے ردِ عمل نے ثابت کیا کہ ن لیگی ورکر مزاحمت چاہتا ہے۔ بارہ کروڑ آبادی کا پنجاب عمرانی ہتھکنڈوں سے دلبرداشتہ ہے اور پچھلے ڈیڑھ برس میں بدماشیہ اور خان کا بھوت پنجاب کے برساتی نالوں میں بہہ گیا ہے۔ اس خلاء کو صرف بلاول بھٹو ہی بھر سکتا ہے مگر اسکے لیئے اسے اپنے اردگرد کھڑے نالائقوں کی بجائے اپنی ماں اور نانا کے نقشِ قدم کیجانب رجوع کرنا پڑے گا۔ پیپلز پارٹی 1977 سے پنجاب واپس لینے کیلئے جس خلاء کی تلاش میں ماری ماری پھرتی رہی وہ خلا شہباز شریف کی چاکرانہ طبیعت نے پلیٹ میں ڈال کر اسکے آگے رکھ دیا ہے۔ اب فیصلہ اسے کرنا ہے کہ اسے RTS برگیڈ کی ہمدردیاں عزیز ہیں یا پھر بھٹو کی مزاحتی وراثت۔ اگر بلاول اپنے نالائق مصاحبین کے بہکاوے میں آ کر مفاحمتی زہرکا پیالہ چُنتا ہے تو ہو سکتا ہے اگلی بار لولھی لنگڑی حکومت کی خیرات پالے لیکن اگر وہ ‘جمہوریت بہترین انتقام’ ہے کا داعی ہے تو اسے اپنی ماں اور نانا کے نقشِ قدم پر چل کر عوام کی حتمی فتح کیلئے جدوجہد کرنی ہوگی۔

پیپلز پارٹی کے جنم سے آجدن تک ایسٹیبلشمنٹ نے کبھی پیپلز پارٹی پر اعتماد نہیں کیا اور ہمیشہ اپنے آلہ کاروں کے ذریعے اسکا مینڈیٹ چرانے کی کوشش کی ہے۔ گو آج بلاول بھٹو انکے مینڈیٹ کو بدل نہیں سکتا مگر اسکے خلاف آواز اٹھا پرچی پرچی کرنے والوں کے سینے میں ہالہ کنوینشن کی برچھی ضرور اتار سکتا ہے۔ باقی جانے یا علیؑ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے