بُھلا دیا نا ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

بُھلا دیا نا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
ُ
اُداس رُت میں ،
لہو کی بوندوں میں ،
بس اُداسی ہی جاگتی ہے
کہیں پڑھا تھا کہ پھر ُسنا تھا؟
تو یوں بھی ہوتا ہے یہ اُداسی ،
تمام یادوں کی نرم و نازک سی کونپلوں کو ،
کبھی اچانک ہی نوچ لیتی ہے ،
بے دھیانی میں، بے خودی میں
سُنو یہ دھڑکا لگا ہے من کو ،
کہیں نہ ایسا ہو، ایسی رُت میں ہمیں بُھلا دو
یہی تو تم سے کہا تھا جاناں !
وہی ہوا ناں۔ ۔ ۔ ۔بھُلا دیا نا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
فاخرہ بتول

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے