بھرا پڑا ہے یہاں پر نصاب لفظوں سے

بھرا پڑا ہے یہاں پر نصاب لفظوں سے
لکھا ہوا ہے مگر سب خراب لفظوں سے
بھلے شکن ہی پڑی تھی ہر ایک صفحے پر
کوئی پلا تو گیا ہے شراب لفظوں سے
سوال دل سے کیا تھا وفا شعاروں نے
مگر شرر نے دیا تھا جواب لفظوں سے
پلٹ کے دیکھ پگھلتا ہوا غبارِ دل
جسے وفا نے بنایا سراب لفظوں سے
الجھ گئی ہے نظر آج بھی کتابوں میں
اُٹھا نہیں ہے ذرا سا نقاب لفظوں سے
صفِ بتاں نے کوئی دیدہ وَر تراشا ہے
کہ ڈھونڈنا ہے ہمیں پھر گلاب لفظوں سے
مرا ہنر ہی مری آنکھ میں چبھا ناصر
گلہ نہیں ہے مجھے پُر عذاب لفظوں سے
 
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے