بوجھ بجھاری

"بوجھ بجھاری”

لال گگن میں نیلا تارہ
اور گلابی کرنیں تھیں۔۔
اس تارے کے اک کونے پر
پیلے پھول کی بند پتیوں میں۔۔
خاک کا قالب سویا تھا
جانے کتنی صدیوں سے وہ
ایک امر کے نہ ہونے سے
قرنوں قرنوں رویا تھا۔۔
بند پتیوں کی قبر کے بھیتر۔۔۔
سات سروں نے شور مچا کر۔
اس قالب کو چیر دیا تھا
پھر کچھ اور زمانے بیتے ۔
اس قالب کے دو حصوں نے ۔۔۔
اک دن اپنی آنکھیں کھولیں۔۔
اک دوجے کو یوں دیکھا، حیران ہوئے، پھر جان گئے!
اور قرنوں کے اس سنگم پر۔۔
پیلے پھول کی بند پتیوں نے۔۔
ہاتھ اٹھا انگڑائی لی اور دھوپ کا اس پل جنم ہوا۔۔
ایک سویرا یوں نکلا کہ ایک اندھیرا ختم ہوا۔۔
دونوں قالب آگے پیچھے، روتے گاتے کھیل رہے تھے
نیلا تارہ ان قرنوں میں
سبز پھلوں سے بھر جاتا تھا۔۔۔
نارنجی دریا میں اترے اک دونوں بھول بھٹک کر۔
اور نہ جانے کیا بیتی کہ ۔۔
فلک کا پردہ چاک ہوا۔۔
ایک سیاہ سائے نے اپنے ۔۔
پر پھیلا کر ۔۔
سارے رنگ فنا کر ڈالے۔۔
قالب سہمے!!
روئے کانپے۔۔۔!!
بھاگے دوڑے!!
پر قید ہوئے!!
سائے نے ان کو اپنے کالے ہاتھ میں بھینچ لیا تھا
ان کے تن سے نور کا پردہ۔۔
ایک ہی پل میں کھینچ لیا تھا۔۔
دونوں خود سے شرماتے تھے
دونوں خود سے گھبراتے تھے۔۔۔
وہ قالب جو ایک تھے لیکن!!
اک دوجے سے کتراتے تھے۔
ان کو یوں لاچار جو دیکھا!!
سبز پھلوں کی ان بیلوں نے
اپنے پتے دان کئیے اور راحت کے سامان کئیے۔۔۔
لیکن سایہ قابض تھا اور اس کی سازش گہری تھی
ان دونوں کو وہاں لے آیا
جہاں پہ زردی ٹھہری تھی۔۔
اب کیا ہو گا؟؟کیا ہونا تھا؟؟
تارے کا آخری وہ کونا تھا
اس نے کونا توڑ دیا اور خلا میں ان کو چھوڑ دیا۔۔
دونوں روئے، سہمے قالب
اک دوجے سے لپٹ لپٹ کر۔۔
نیچے نیچے گرتے گئے۔۔۔۔
تارے گزرے، سورج گزرے،
اندھیرے اوقات گئے
گھاس پہ گر کے ٹوٹ گئے وہ۔۔
جانے کس کے ساتھ گئے؟
سورج جاگا، چڑیا چہکی!
پھول نے اک انگڑائی لی۔۔
کالی بلی گھر سے نکلی!!!
ان دونوں کو چاٹ گئی!!!

مریم مجید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے