بھلے غموں سے نڈھال بھی تھا

بھلے غموں سے نڈھال بھی تھا
وہ شخص تو بے مثال بھی تھا
اُسے بچھڑنے کی آرزو تھی
ستم گروں کا کمال بھی تھا
جوان خواہش کے رو برو پھر
وفورِ حسن و جمال بھی تھا
تڑپ رہی تھی مری اَنا بھی
جدائی کا احتمال بھی تھا
شمار سانسوں کا تھا ضروری
حساب رکھنا محال بھی تھا
مطالبہ ہے جو دشمنی میں
وہ دوستی کا سوال بھی تھا
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے