بھلے لوگوں میں ہوں تو میں بھلی ہوں

بھلے لوگوں میں ہوں تو میں بھلی ہوں
اگر چہ میں ذراسی سر پھری ہوں
بدن صندل سا ہوتا جارہا ہے
تری خوشبو میں جیسے ڈھل گئی ہوں
محبت کےسمندر سے اے جاناں
تری الفت کے گوہر چن چکی ہوں
مری پرواز ہے تیری بدولت
میں چاہت کے افق پر اڑ رہی ہوں
پھسل سکتی ہوں تیرے ہاتھ سے میں
مجھے کس کر پکڑنا جل پری ہوں
وفاؤں کے شجر سے ٹوٹ کر میں
ترے دامن میں آکرگر پڑی ہوں
گلابوں نےمری سرخی چرالی
چمن میں ہر طرف میں کھل رہی ہوں
مری خوشبوچمیلی لےاڑی ہے
ہوامیں عطربن کر گھومتی ہوں
اگرچہ نرم و نازک ہوں میں عشبہ
طبیعت کی ذراسی منچلی ہوں
عشبہ تعبیر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے