فروری 5, 2023
raakib mukhtar
راکب مختار کی ایک اردو غزل

بھائی بچھڑے تو بس ہچکیاں رہ گئیں
بین کرنے کو ماں جائیاں رہ گئیں

فاتحِ شہر خوش ہے کہ سب مر گئے
قصر میں صرف شہزادیاں رہ گئیں

منقسم یوں ہوا ترکہء ِ زندگی
میرے حصے میں بربادیاں رہ گئیں

ہو گیا خطہءِ دل میں سب کچھ فنا
چند مخصوص آبادیاں رہ گئیں

چھو نہ پائے کلائی کا کنگن بھی ہم
گال سے کھیلتی بالیاں رہ گئیں

کتنے زرقون خواہش میں تڑپے مگر
خالی خالی تری انگلیاں رہ گئیں

نیند میں اس نے پکڑا گریبان سے
آنکھ میں خواب کی دھجیاں رہ گئیں

قاتلوں میں کئی لوگ اپنے بھی تھے
میرے سینے میں کچھ برچھیاں رہ گئیں

 

راکب مختار

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے