بے وفا روبرو تجھے دیکھوں

بے وفا روبرو تجھے دیکھوں
ہے مری آرزو تجھے دیکھوں
عشق کی آنکھ میں لئے آنسو
درد زیرِ نمو تجھے دیکھوں
اے مرے زخم تو محبت ہے
کیوں بھلا میں رفو تجھے دیکھوں
ہے عبادت مری محبت میں
ہو کے میں با وضو تجھے دیکھوں
کتنا دلکش ملا مجھے دھوکہ
میں کہ بے آبرو تجھے دیکھوں
آسماں آئنہ بنا کے حسیب
خوش ہوں اب چار سو تجھے دیکھوں
حسیب بشر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے