فروری 5, 2023
rakib mukhtar
راکب مختار کی ایک اردو غزل

میں جب اس کےلئے بیتاب ہوا کرتا تھا
ماہی بھی ماہی ء بے آب ہوا کرتا تھا

پھول بکھرے ہوئے دیکھے ہیں تو یاد آیا ہے
میرا بھی حلقہ ء احباب ہوا کرتا تھا

اب تو خیر آنکھ کی بنتی ہی نہیں نیندوں سے
ورنہ ہر خواب مرا خواب ہوا کرتا تھا

پانی گاگر میں بھی قاتل نظر آتا تھا ہمیں
جن دنوں خطرہ ء سیلاب ہوا کرتا تھا

پھول اس ڈر سے بھی لے لیتی تھی لڑکی راکب
دوسرے ہاتھ میں تیزاب ہوا کرتا تھا

سلطنت گھن کی طرح چاٹ گئے چرب زبان
شاہوں کو چسکہ ء القاب ہوا کرتا تھا

راکب مختار

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے