بیخودی بھی حاملِ اقدار ہونی چاہیے

بیخودی بھی حاملِ اقدار ہونی چاہیے
سرخوشی کی مے سے وہ سرشار ہونی چاہیے

قربتیں عشق و محبّت کا تقاضا ہیں مگر
بیچ میں شرم و حیا دیوار ہونی چاہیے

دیکھئیے غیروں کے محلوں کو مگر عالی وقار!
سر پہ محفوظ آپ کی دستار ہونی چاہیے

سب سے پیارا دوست بن جائے اگر دشمن کبھی
پھر چھٹی حس آپ کی بیدار ہونی چاہیے

گفتگو میں بذلہ سنجی کی اجازت ہے مگر
بے اذیّت اور بے آزار ہونی چاہیے

ہو نہ جائیں منکشف اسرارِ سربستہ کہیں
مہرِ خاموشی لبوں پہ یار ہونی چاہیے

اے منوّر زندگی کردار کی محتاج ہے
آپ کی سیرت تو بے گفتار ہونی چاہیے

سیّدہ منوّر جہاں منوّر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے