Bekaari

بیکاری​

بیکاری یعنی بے روزگاری اس اعتبار سے تو نہایت لاجواب چیز ہے کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی حیثیت کا انسان اپنے گھر میں تمام دنیا سے بے نیاز ہو کر اس طرح رہتا ہے کہ ایک شہنشاہ ہفت اقلیم کو اپنے محل میں وہ فارغ البالی نصیب نہیں ہو سکتی۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ دولت جس کو تمام دنیا کے سرمایہ دار اپنی جان اور اپنا ایمان سمجھتے ہیں ، ایک ایسا مستقل عذاب ہے جو انسان کو کبھی مطمئن نہیں ہونے دیتا۔ سرمایہ داروں کی تمام زندگی بس دو ہی فکروں میں کٹتی ہے ایک یہ کہ اگر ہمارا روپیہ چور لے گئے تو کیا ہوگا؟

یہ دونوں فکریں اپنی اپنی جگہ ایسی مہلک ہوتی ہیں کہ ان کو بھی دق کی منجملہ اقسام کے سمجھنا چاہیے بلکہ دق کی دوسری قسمیں تو معمولی ہیں مثلا پھیپھڑے کی دق ، آنتوں کی دق ، ہڈی کی دق وغیرہ ، مگر یہ فکریں تو دل اور دماغ کی دق سے کم نہیں جن کا مارا ہوا نہ مرتا ہے نہ جیتا ہے۔بس توند بڑھتی جاتی ہے اور دل چھوٹا ہوتا رہتا ہے۔ مختصر یہ کہ ان سرمایہ داروں کی زندگی حقیقۃ کشمکش جبر و اختیار میں بسر ہوتی ہے کہ نہ زندہ رہتے بن پڑتی ہے نہ مرنے کو دل چاہتا ہے ، اب رہے غریب ان کی زندگی بھی کوئی زندگی ہے کہ بلا ضرورت پیدا ہوگئے اور جب بھی چاہا مر گئے ، نہ جینے کی خوشی تھی نہ مرنے کا کوئی غم

اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

مطلب کہنے کا یہ ہے کہ چاہے ہم کو بے روزگاروں کی جماعت گالیاں دے یا سرمایہ داروں کا طبقہ انعام ، لیکن ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ موجودہ دنیا کے لئے بیکاری ایک رحمت ہے ، حالانکہ اس رحمت سے ہندوستان کے علاوہ تمام دنیا کے ممالک چیخ اٹھے ہیں اور ہر طرف سے "ہائے پیٹ ہائے پیٹ” کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں لیکن ہم سچ کہتے ہیں کہ "ہائے پیٹ” کی صدائیں "پیٹ پھٹا” کی صداوں کے مقابلے میں میں پھر بھی قابلِ برداشت ہیں ، لوگ کہیں گے کہ عجیب الٹی سمجھ کا آدمی ہے کہ تر لقمے پر فاقے کو ترجیح دیتا ہے لیکن جناب ہم اس حقیقت سے آشنا ہو چکے ہیں کہ فاقہ اسی وقت تک فاقہ ہے جب تک تر لقمے کی امید انسان کے پیٹ کو جہنم اور معدے کو ربڑ کا بنائے ہوئے ہے لیکن اگر انسان تر لقمے سے خالی الذہن ہو جائے تو یہی فاقہ اس کے لئے سب کچھ ہو سکتا ہے۔ مرزا غالب مرحوم نے بھی اپنے ایک شعر میں اسی قسم کی ایک بات کہی ہے جس کا ترجمہ ہمارے الفاظ میں یہ ہوا کہ

فاقہ کا خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتی ہے بھوک
اس قدر فاقے پڑے ہم پر کہ لقمہ بن گئے

ہم جو بات کہنا چاہ رہے ہیں وہ معمولی سمجھ کے انسانوں کے لئے بیکار ہے لہذا اس کا کہنا بھی فضول سی بات ہے ورنہ اس وقت ہم اس قسم کی بلند باتیں کرنا چاہتے ہیں ، ہم تو اس وقت بیکاری کے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہیں جس کے خلاف ساری دنیا میں احتجاج کا ایک شور مچا ہوا ہے۔ بیکاری اچھی چیز ہے یا بری اس کے متعلق ہم اپنے ذاتی خیال کو تفصیل کے ساتھ پیش کریں تو ہم کو اندیشہ ہے کہ یا تو ہماری جان خطرے میں پڑ جائے گی ورنہ یہ تمام دنیا کی تجارت ، کاروبار اور ملازمتیں وغیرہ سب مفلوج ہو کر رہ جائیں گی۔ لہذا دونوں صورتیں ایسی ہیں کہ ذرا ڈر معلوم ہوتا ہے معلوم نہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے ، اس لئے بہترین صورت یہی ہے کہ عام نقطہ نظر سے ہم بھی بیکاری کو برا فرض کرنے کے بعد اپنے خامہ سے "چل بسم اللہ” کہیں۔

بات اصل میں یہ ہے کہ نئی اور پرانی دنیا کو ملا کر جو کرہ ارض بنتا ہے اس میں تین چوتھائی تو بحر الکاہل ، بحر الغافل ، بحر الجاہل وغیرہ کی قسم کے بڑے بڑے سمندر ہیں یعنی پانی ہی پانی۔ اب رہ گئی ایک چوتھائی دنیا جو خدا نظرِ بد سے بچائے خشکی ہے اس چوتھائی دنیا میں لق و دق صحرا ، سر بفلک پہاڑ ، ریگستان جن کو انسان سے کوئی تعلق نہیں بس شترستان کہنا چاہیے اور جھیلیں دریا نالے وغیرہ ہیں۔ باقی جو بچی تھوڑی بہت خشکی اس میں کھیت اور باغ وغیرہ سے بچی ہوئی خشکی کو گاوں ، تحصیل ، پرگنہ ، شہر ، ضلع ، صوبہ ، ملک اور برا عظم وغیرہ میں تقسیم کردیا گیا ہے اور یہ ہے وہ مختصر سی گنجائش جس میں اشرف المخلوقات مع چرندوں پرندوں اور درندوں کے رہتے ہیں۔ اس محدود گنجائش میں آبادی کا یہ حال ہے کہ خدا کی پناہ روز روز بڑھتی جا تی ہے۔ دنیا کی وسعتیں محدود ہیں اور نسل انسانی کی ترقی غیر محدود ، اب جو لوگ بیکاری کا رونا روتے ہیں تو آپ ہی بتائیے کہ دنیا کا قصور ہے یا دنیا میں بسنے والوں کا ، ہاں اگر نظامِ فطرت ہوتا کہ ہر انسان کے ساتھ ایک آدھ بیگھ زمین بھی پیدا ہوا کرتی تو واقعی بیکاری کے متعلق ہماری تمام شکائیتیں حق بجانب تھیں مگر اب تو ہر نیا پیدا ہونے والا اس چھوٹی سے دنیا میں گنجائش حاصل کرنا چاہتا ہے جو باوا آدم سے لیکر اب تک یعنی از آدم یا ایں دم ایک انچ بھی نہیں بڑھی ، آپ کہیں گے واہ بڑھی کیوں نہیں ، یہ جو کولمبس نے امریکہ کا پتہ لگا کر اس دنیا میں ایک اور اضافہ کیا وہ کدھر گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ پہلے ہی موجود تھا جب تک انسان کی جستجو میں کامیاب ہونے کی صلاحیت پیدا نہ ہوئی وہ پوشیدہ رہا اور اور جب اس کو ڈھونڈا گیا تو وہ مل گیا۔ لیکن اب یہ امید رکھنا کہ کوءی اور امریکہ مل جائے گا غلط ہے اس لئے کہ اب انسان کو بیکاری کے غم نے یا تو اس قدر پست ہمت کر دیا ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش پر نظر ڈالنے میں بھی کاہلی سے کام لیتا ہے یا سرمایہ داری نے ایسا دماغ خراب کر دیا ہے کہ مریخ پر حکومت کرنے کی فکر ہے۔ ممکن ہے کہ کبھی یہ ہوا میں قلعہ بنانے کی جدوجہد میں کامیاب ہو جائے لیکن ابھی تو ہم دنیا سے جا کر مریخ میں آباد ہونے کے لئے تیار نہیں۔

لاحول و لا قوۃ کہاں سے کہاں پہنچے۔ ہاں تو ہم یہ کہہ رہے تھے کہ انسان کی کثرت نے دنیا میں بیکاری کی وبا پھیلا دی ہے ، بات یہ ہے کہ بڈھے تو مرنے کا نام نہیں لیتے اور بچہ پیدا ہونا بند نہیں ہوتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آبادی بڑھتی جاتی ہے۔ اب یہ دیکھئے کہ جہاں پانچ بچے تعلیم حاصل کرتے تھے وہاں اب پانچ ہزار تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ پہلے تو یہ تھا کہ یہ پانچ بچے پڑھنے کے بعد مختلف جگہوں پر ملازم ہو جاتے تھے ، ملازمت کرتے تھے ، پنشن لیتے تھے اور مر جاتے تھے۔لیکن ان کے امیدوار بجائے پانچ کے پانچ ہزار ہیں ، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ پانچ تو بدستور برسرِکار ہو جائیں گے ، اب رہے چار ہزار نو سو پچانوے وہ یقینی طور پر بیکار رہیں گے۔ غلطی دراصل حساب کی ہے کہ اب آمد و خرچ برابر نہیں رہا۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ ادھر پانچ بچے پیدا ہوئے تو ادھر پانچ بڈھے مر گئے ، ادھر پانچ ملازم ہوئے تو ادھر پانچ ملازموں نے پنشن لے لی ، لیکن اب بڈھوں نے مرنا ترک کر دیا ہے اور بچے برابر پیدا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اس صورت میں کوئی بڑے سے بڑا ریاضی دان ہم کو بتائے کہ حساب فہمی کا آخر کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔

اب یہ دیکھئے کہ پانچ ہزار میں سے پانچ کے برسرِروزگار ہوجانے کے بعد جو باقی بچے تھے چار ہزار نو سو پچانوے ، وہ گویا سب کے سب بیکار ہوئے ان بیچاروں کا یہ حال ہے کہ خدا دشمن کا بھی نہ کرے ، ہائے وہ طالب علمی کی امیدیں کہ بس پاس ہوئے اور ڈپٹی کلکٹری اپنے گھر کی لونڈی ہے فارغ التحصیل ہوئے اور آنریبل بنے اگر گورنر نہیں تو ان کے کونسلر تو ضرور ہی ہو جائیں گے لیکن جب پڑھنے کے بعد درخواستیں بھیجنا شروع کیں تو ہر جگہ سے نامنظور ہو کر بواپسی ڈاک گھر آگئیں ، اب بتائیے کہ اس وقت وہ بیچارے کیا کریں ، تو گھبرا کر قانون کا مطالعہ شروع کردیتا ہے کوئی تجارت کی طرف رجوع ہوتا ہے ، کوئی ڈپٹی کلکٹری سے ناامید ہو کر ریلوے میں ٹکٹ کلکٹری کر لیتا ہے ، کوئی بجائے آنریبل ہونے کے کلریکل لائن میں نکل جاتا ہے اور زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے جو بس ارادہ کرتے ہیں اور بدلتے ہیں ، تجاویز پر غور کرتے اور رہ جاتے ہیں اسکیمیں بناتے ہیں اور رد کرتے ہیں یعنی گھر بیٹھے ہوئے بچوں کو کھلاتے ہیں اور مزے کرتے ہیں ان لوگوں کو عام طور پر بیکار بے روزگار کہا جاتا ہے اور آج کل دنیا ان ہی لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔نصیحت کرنے والے جو اتفاق سے بے روزگاری کے آلام و مصائب سے قطعا نا آشنا ہوتے ہیں ہمیشہ یہی کہا کرتے ہیں کہ آج کل کے نوجوانوں میں آرام طلبی ایسی آگئی ہے کہ ہاتھ پاوں ہلانے کو دل ہی نہیں چاہتا۔ بس وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ گھر پر پڑے ہوئے چارپائی کے بان توڑا کریں اور روپے کی بارش ہوا کرے ان ناصح بزرگوں سے کون کہے کہ جناب والا یہ سب کچھ صرف اس لئے ہے کہ آپ کا سایہ ہم کمبختوں کے سر پر ہنوز قائم ہے حالاں کہ آج کل عمر طبیعی پچاس پچپن سال ہے یعنی پچپن سال کی پنشن پاتے ہی انسان کو مر جانا چاہیے۔ یعنی یہ زبردستی تو ملاحظہ فرمائیے کہ دہری دہری عمر طبیعی پانے والے بزرگ مرنا تو بھول جاتے ہیں بس یہ یاد رہ جاتا ہے کہ اپنی نازل کی ہوئی مصیبتوں پر بیکار نوجوانوں کو دن رات لعنت ملامت کیا کریں ، حالانکہ قصور سب ان ہی کا ہے ، یہی نوجوان جب بچے تھے تو ان ہی قبرستان کا راستہ بھول جانے والے بزرگوں نے ان بیچاروں کو پڑھانا شروع کیا تھا اور تمام زندگی زبردستی پڑھاتے رہے یہاں تک کہ پڑھانے والے تو قبر میں پاوں لٹکا کر بیٹھ گئے اور پڑھنے والے ایک آدھ درجن بچوں کے باپ بن گئے اب ان سے کہا جاتا ہے کہ اپنے بچوں اور باپ دادا سب کا پیٹ پالو تو بیچارے کہاں سے پالیں ، آرام طلب بنا دینے والے آرام طلبی کا طعنہ دیتے ہوئے کس قدر اچھے معلوم ہوتے ہیں بیکار کر دینے والے بیکاری پر لعنت ملامت کرتے ہوئے کیسے بھلے لگتے ہیں ، ان ناصحوں سے کوئی پوچھے کہ اگر آپ کو اپنی اولاد کے باکار ہونے کی فکر تھی تو آپ نے اس کو درزی کیوں نہ بنایا ، بڑھئی کیوں نہ بنایا ، لوہار کیوں نہ ہونے دیا ، جوتہ بنانا کیوں نہ سکھایا اور تعلیم شروع کرانے سے قبل گلا گھونٹ کر کیوں نہ مار ڈالا ، پہلے تو تمام زندگی بے کار ضائع کی ، اسکول اور کالج کی لاٹ صاحبانہ زندگی بسر کرائی ، سوٹ ، بوٹ کا عادی بنایا اور اس مغالطے میں مبتلا رکھا کہ آنے والا دور موجودہ دور سے زیادہ زرین اور خوشگوار ہے تو اب یہ شکوہ سنجیاں کیا معنی رکھتی ہیں اور تمام دنیا کا تو خیر جو کچھ بھی حال ہو لیکن ہندوستان جنت نشان کا یہ حال ہے کہ یہاں بیکاری کے سب اس طرح عادی ہو گئے ہیں کہ گویا ہندوستانی انسان کا مقصدِ حیات یہی بیکاری ہے جس میں سب مبتلا ہیں ، ہندوستان ایسے جاہل ملک کے پڑھے لکھے بھی دو کوڑی کے اور جاہل بھی دو کوڑی کے بلکہ جو بیچارے پیدائشی یعنی خاندانی جاہل ہیں ان کی حالت پڑھے لکھوں سے بدرجہا بہتر ہے ، اس لئے کہ وہ محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے متعلقین کا پیٹ پال لیتے ہیں اور پڑھے لکھوں کا پیٹ ان کے متعلقین بھرتے ہیں۔ اس وقت بیکاری کا عالم یہ ہے کہ ہندوستان کے کسی شہر میں دیکھ لیجیے ، بہت سے محلے کے محلے ایسے نکلیں گے جہاں آپ کی دعا سے سب خودمختار یعنی آزاد ہوں گے ، کوئی کسی کا نوکر چاکر نہیں ، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ پھر کھاتے کہاں سے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ آپ بھی دنیا کے تمام کام چھوڑ کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں اور دیکھئے کہ خدا کھانے کو دیتا ہے یا نہیں؟ پہلے آپ جائداد پر ہاتھ صاف کریں گے پھر بیوی کے زیور کی باری آئے گی پھر کپڑوں اور برتنوں پر نوبت پہنچے گی ، مختصر یہ کہ خدا باپ دادا کی کمائی ہوئی دولت اور جمع کی ہوئی گھرستی کو رکھے ، بیوی کے لائے ہوئے زیور کو رکھے اور ان سب کو کوڑیوں کے مول خریدنے والے مہاجنوں کو رکھے ، بہرحال آپ انشاء اللہ اچھے سے اچھا کھائیں گے اور جس قدر اچھی زندگی آپ کی گزرے کی وہ تو ان نوکر چاکر قسم کے برسرِ کار لوگوں نے خواب میں بھی نہیں دیکھی۔

مطلب کہنے کا یہ ہے کہ جس بیکاری سے ایک دنیا چیخ اٹھتی ہے اس سے ہندوستان کیوں گھبراتا ہے ، ہندوستان تو بقول ہمارے خداوندانِ نعمت کے ایک جاہل ،وحشی ، غیر مہذب اور کالے آدمیوں کا ملک ہے ، یہاں اگر بیکاری ہے تو کیا تعجب ، جب یورپ ایسے متمدن ، تعلیم یافتہ ، مہذب اور گورے آدمیوں کے ملک میں یہ حال ہے کہ بے چارے صاحب لوگ ہر طرح ناکام ثابت ہو کر وہاں کے ہر شعبہ ملازمت سے علیحدہ کر دئیے گئے ہیں اور ان کی جگہ میم صاحبات براج رہی ہیں اگر خدانخواستہ ہندوستان میں بھی یہی صورت ہوجاتی کہ” اندورون خانہ” ایک دم سے "بیرون خانہ” اور "بیرون خانہ” ایک دم سے "اندرون خانہ” ہو کر رہ جاتے تو شاید یہاں کے لوگ ہندوستان کو حوا کی بیٹیوں کے لئے چھوڑ کر یا تو کسی اور دنیا میں چلے جاتے جہاں ابنِ آدم کی حکومت ہو یا خود کشی کر لیتے ، اس لئے کہ یہ انقلاب ہندوستان کے مردوں کے لئے ناقابل برداشت ہے کہ ان کی بیویاں تو کچہری عدالت کریں اور وہ خود گھر داری کریں ، بچوں کو کھلائیں ، یعنی مرد پیدا ہو کر عورت کے فرائض انجام دیں تو جناب مطلب کہنے کا یہ ہے کہ یورپ کی بیکاری پھر بھی قابلِ برداشت ہے کہ وہاں کے مرد تو بیکار عورتیں باکار ہوگئی ہیں ایک در بند ہوا تو دوسرا کھل بھی گیا اور ہمارے ہندوستان شریف کے دونوں در اس طرح بند ہوئے ہیں کہ گویا کنجی ہی کھو گئی ، لہذا اب کبھی کھلنے کی امید نہیں ایسی صورت میں اگر ہندوستان کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بیکاری ہمارا مقصدِ حیات ہے تو بتائیے کیاغلط سمجھتے ہیں؟ کیا آپ کا مطلب ہے کہ بیکار جدوجہد کر کے اپنی جان دے دیں یا بے معنی کوششوں کے پیچھے مر جائیں آخر کیا کریں؟ اس بیکاری کا جو علاج ہے وہ ہندوستانیوں سے عمر بھر نہیں ہوسکتا اور اگر ہوسکتا ہے تو کر دیکھیں ، ہم جبھی جانیں کہ یورپ کے مردوں کی سی غیرت اور حمیت پیدا کر کے دکھائیں اور اپنے آپ کو عورتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔ جب یہ معلوم ہے کہ موجودہ دور "دور النساء” ہے تو پھر بیکاری دور کرنے کی جدوجہد کرنا فطرت سے جنگ کرنا ہے یا نہیں؟

کسی بیکاری اور کیسی کچھ ، ہم تو یہ جانتے ہیں کہ جس قدر بیکاری سے انسان کثیر المشاغل ہو جاتا باکاری میں قطعا نہیں ہوسکتا۔ بیکاری خود ایک ایسا مشغلہ ہے کہ انسان کو اس سے کبھی فرصت نہیں ملتی۔ یقین نہ آتا ہو تو کسی بیکار انسان کا ایک ہفتہ کا پروگرام دیکھ لیجیے اور پھر اندازہ کیجیے کہ کیا اتنا کام آپ زندگی بھر بھی کر سکتے ہیں یقنیا آپ کو آپ کی دگنی عمر بھی ملتی تو شاید آپ اس ہفتہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔ مثلا ایک شخص بیکار ہے اور اس کو کسی مشغلے کی فکر ہے وہ سب سے پہلے ڈپٹی کلکٹر سے لے کر وکسینٹری تک کے لئے کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح ملازمت مل جائے اور —
– اسی کے ساتھ ساتھ ارادہ ہے کہ آٹا پیسنے کی چکی لگا کر قسمت آزمائی کرے گا اور اس سلسلہ کا تمام حساب کتاب مرتب ہوچکا ہے لیکن ایک خیال یہ بھی ہے کہ اگر حیدر آباد میں کوئی ملازمت مل گئی تو اس کو ترجیح دی جائے گی ، ایک طرح یہ بھی دل چاہتا ہے کہ اگر سستی مل جائے تو ایک لاری خرید لی جائے ، بڑے نفع کی چیز ہے لوگوں نے ایک لاری خرید کر اتنا نفع کمایا ہے کہ تھوڑے ہی دنوں میں ان کے پاس دس دس لاریاں ہو گئی ہیں اور لکھ پتی بن گئے ہیں لیکن اگر ریلوے اسٹیشن پر کتابوں کے فروخت کرنے کی اجازت مل جائے تو کیا کہنا ہے دگنا اور چوگنا فائدہ ہے اور یہ ہڈی کا کاروبار بھی بڑے نفع کی چیز ہے بس انسان مستقل مزاج اور محنتی ہو ، پھر روپے کی کوئی کمی نہیں اور ان سب سے اچھا تو یہ ہے کہ ایک ماہوار ادبی رسالہ نکال لیا جائے اور اگر خدا توفیق دے تو روزانہ اخبارسے تو بہتر کوئی بات ہی نہیں ، مختصر یہ کہ ان کے جتنے ارادہ ہوتے ہیں سب اپنی اپنی جگہ مستقل اور اس کا ذہن ہر جگہ کام کرتا ہے۔ یہ خیالی اسکیمیں جب عمل میں آجاتی ہیں اس وقت کچھ نہ پوچھئے کہ کیا حال ہوتا ہے وہی بیکار انسان بہ یک وقت ڈپٹی کلکٹر سے لے کر تمام ان عہدوں پر جن کے نام اس کو یاد ہیں ملازم ہوگا کہ عنقریب کوئی "یار جنگ” ہونے کی بھی امید ہوگی۔ لاری بلکہ لاریوں کا مالک ہوگا ، ریلوے اسٹیشن کی ٹھیکیداری کا شرف بھی حاصل ہوگا۔ ایک ادبی رسالہ کا مدیر اور ایک روزنامہ کا چیف ایڈیٹر بھی ہوگا۔ مختصر یہ کہ جہاں جہاں اس کے دماغ کی رسائی ہوئی ہوگی بس وہ اپنے نزدیک وہاں تھوڑی دیر کے لئے عالمِ تخیل میں سہی بہرحال کامیاب ضرور ہوگیا ہوگا اور اس فریب خیال نے اس بیچارے کی حالت اس کتے کی سی بنا دی ہوگی جو شیش محل میں ہر طرف اپنی ہی صورت دیکھ کر باولا ہو جانے کے قریب ہو ، یہ کیفیت اس قدرعام ہے کہ کم یا زیادہ دنیا کے ہر بیروزگار مگر تعلیم یافتہ بیروزگار میں فرق موجود ہے اب فرق یہ ہے کہ جو سمجھ دار ہیں یعنی جن پر بیکاری کا ہلکا سا حملہ ہوا ہے ، یا جنہوں نے اس حملے کا کامیاب مقابلہ کیا ہے وہ تو خیر اس قسم کی تمام تجاویز اپنے ذہن میں رکھیں گے اور ان کے یہاں تمام صلاح مشورے بس دل اور دماغ کے درمیان ہوگا یعنی ان کی اسکیمیں اول تو کسی کو معلوم نہیں ہوں گی اور معلوم بھی ہوں گی تو مخصوص لوگوں کو لیکن وہ لوگ جو فطرۃ کمزور واقع ہوئے ہیں یا جن کو بیکاری نے ہر اعتبار سے ضعیف بنا دیا ہے اس معاملے میں اسی طرح کے انسان ثابت ہوں گے جن کا ہم ذکر کر چکے ہیں یعنی ان کے پاس جائیے تو السلام علیکم و علیکم السلام کے بعد جو اس مخصوص مبحث پر گفتگو شروع ہوگی تو اس وقت تک سلسلہ جاری رہے گا ، جب تک آپ خود "اجازت ہے؟” نہ کہیں اور پھر اس گفتگو میں جس بیساختگی کے ساتھ متکلم محو اور بیخود ہو جاتا ہے اس کا تعلق بس دیکھنے سے ہے ، اس وقت اگر آپ نے اس بیچارے کی گفتگو توجہ کے ساتھ سن لی تو آپ کا یہ احسان وہ عمر بھر نہیں بھول سکتا ، بلکہ آپ کو محسوس ہوگا کہ واقعی یہ بیچارہ صرف میری وجہ سے اب تک زندہ ہے ورنہ نہیں معلوم کب کا اس خودغرض دنیا کو چھوڑ چکا ہوتا ، آپ کی صورت دیکھتے ہی وہ فورا آپ کی طرف بڑھے گا کہ "السلام علیکم ۔ بھائی عید کا چاند ہوگئے ، کہو طبیعت کیسی ہے اور بھاوج کا کیا حال ہے ” اور اگر اس کے جواب میں کہیں آپ نے اس کا حال بھی پوچھ لیا کہ "خدا کا شکر ہے بھائی اچھا ہوں ، گھر میں بھی خیریت ہے تم اپنی کہو کہ اس درخواست کا کیا ہوا؟” بس اسی قدر کافی ہے گویا آپ نے اجازت دے دی کہ ہاں سناو ، داستانِ امیر حمزہ۔ بس اس نے کہنا شروع کیا —​
"تم کو نہیں معلوم ہوا ، لاحول و لا قوۃ ، اماں ! اس نے تو بہت طول کھینچا ، ہوا یہ کہ ڈپٹی کمشنر صاحب کے پاس بھیج دیا اور کمشنر صاحب نے لکھ دیا کہ جو چاہو کرو ، ہم نہیں جانتے اب ڈپٹی صاحب کی پھونک نکل گئی کہ کہیں کمشنر صاحب نے غصہ میں تو نہیں لکھا ، میں جب گیا تو کہنے لگے ڈپٹی صاحب کہ کمشنر صاحب نے نامنظور کر دی ، میں نے اپنے دل میں کہا ، یہ کیونکر ہو سکتا تھا جب یہ کمشنر صاحب بریلی میں سٹی مجسٹریٹ تھے تو میں ان کو بڑے دن کا کارڈ بھیجتا تھا ، وہ مجھ کو جانتے ہیں خیر بھائی تو میں چپ ہو رہا اور میں نے وہی ٹھیکہ والی کوشش شروع کر دی لیکن تم نے کہا تھا کہ دکان کی بھی فکر کرتے رہو تو بھائی میں اس طرف سے بھی غافل نہیں ، اب جو کچھ بھی خدا کر دے مگر آپ کی دعا سے امید ہے کہ سب کچھ ہو جائے گا۔ دکان امین آباد میں ہے جس میں چار در ہیں مگر وہ جن کے پاس ہے کہتے ہیں کہ میری ذاتی ہے ، میں اس کو خالی نہ کروں گا۔ یہ بڑی مشکل ہے اگر کہیں وہ اس کی ذاتی نہ ہوتی تو بس مار لیا تھا ، مگر اب کیا ہو؟ اور خوب یاد آیا ، یار وہ دواوں والی ترکیب تو ایسی لاجواب ہے کہ نہ ہلدی لگے نہ پھٹکری اور رنگ چوکھا آئے ، بس تمام ہندوستان کے اخباروں میں اشتہار چھپوا دینا ، ہیں پھر کیا ہے جب فرمائش آئی لیا کوئلہ اور دیوار کا پلاسٹر اور دونوں کو ملا کر پیس لیا۔ بس دوا تیار ہے ، تو یار ایک دن بیٹھ کر اشتہار بنا ڈالو۔ مگر تم تو ملتے ہی نہیں ، اور وہ سنگر کمپنی کی ایجنسی بھی یوں ہی رہ گئی ، تم اپنے وعدوں کو بالکل یاد نہیں رکھتے اچھا تو کل کی رہی ، ضرور دیکھو ، فرق نہ ہو ”
جاری ہے—
یہ تمام تجاویز تھیں جن کی تحریک و تائید میں آپ شریک تھے یا جن کا آپ سے کوئی تعلق تھا ، ورنہ ان حضرات کے ذہن میں تو نہیں معلوم کتنی تجاویز ایسی بھی ہوں گی جن سے آپ کو کوئی دلچسپی نہیں ، لیکن آپ کی طرح کے دوسرے ہمدردوں کو دلچسپی ہے مثلا کسی نے تو یہ رائے دی ہوگی کہ ایک ہوٹل کھول لو ، اب شخص سے جو گفتگو ہوگی وہ تمام تر ہوٹل کے متعلق ہوگی ، کسی دوسرے شخص نے واشنگ فیکٹری کھولنے کی صلاح دی ہے تو اس سے واشنگ فیکٹری کے متعلق تبادلہ خیال کا سلسلہ جاری رہے گا کہ دھوبیوں کا انتظام کہاں سے کیا جائے ، کتنے دھوبی کافی ہوں گے ، کم از کم تین الماریاں ، دو بڑی میزیں ، ایک آفس ٹیبل وغیرہ کی ضرورت ہوگی اور پھر کپڑا دھونے کی جگہ کا اس طرح انتظام کیا جائے کہ وہاں پانی کی فراوانی بھی ہو اور وہ جگہ دکان سے قریب بھی ہو۔ مختصر یہ کہ تمام نشیب و فراز صرف ایک تجویز سے تعلق رکھتے ہیں اور اس تجویز کا تعلق بھی صرف ایک کرم فرما سے ہے ، اسی طرح جتنے خدا نے ہمدرد پیدا کئے ہیں اتنی ہی مختلف تجاویز بھی ہیں۔ لیکن ان حضرات کا یہ حال ہے کہ ہر شخص کی ہمدردی قبول اور ہر کام کو شروع کرنے پر اس طرح آمادہ کہ بس گویا کل ہی سے شروع ہو جائے گا۔ اگر آپ کو اپنی بتائی ہوئی ترکیبوں کے علاوہ ان تمام تجاویز کا علم ہو جائے جو آپ کے بے روزگار دوست کے ذہن میں ہیں تو آپ کو تعجب ہوگا کہ یہ شخص ایسا دماغ رکھتا ہے جو خزانہ ہے تجاویز کا اور ہر تجویز کے ساتھ ایسی مکمل معلومات اس کے ذہن میں محفوظ ہیں کہ وہ "زندہ انسائیکلو پیڈیا” بن کر رہ گیا ہے اور یہ سب اسی بیکاری کے طفیل ہوا ہے جس سے وہ کسی نہ کسی طرح چھوٹنا چاہتا ہے۔
یہ جو آپ کثیرا لتعداد ادبی رسالے دیکھ رہے ہیں اور جو بے شمار” نکل آئے گویا کہ مٹی کے پر” کی طرح کے انشاء پرداز پیدا ہوگئے ہیں ، ان سب کے متعلق اگر آپ تحقیقات کریں گے تو ان کے عالم وجود میں آنے کا سبب زیادہ تر یہی بیکاری ہوئی ہوگی ، انہوں نے بیکار ہونے کے بعد یہ سوچا کہ کچھ کرنا چاہیے ، اور کسی نے ان کو رائے دی کی ادیب بن جاو ، مضمون لکھا کرو ، بس انہوں نے لکھنا شروع کر دیا اور ان ہی کی ترکیب کے پیدا ہونے والے رسالوں نے ان مضامین کو شائع کرنا شروع کر دیا۔ اس "کند ہم جنس باہم جنس پرواز” کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ حضرت جن کو حقیقۃ ادب سے کوئی تعلق نہ تھا ادیب بن گئے اور وہ رسالہ جو نہیں معلوم کیا تھا علمی ، ادبی رسالہ بن گیا ، اب کر لیجیے جو کچھ آپ کر سکتے ہیں ، زیادہ سے زیادہ آپ یہ کر سکتے ہیں کہ

اب آبروئے شیوہ اہلِ نظر گئی

کہہ کر اپنی "شوکت تھانویت” سے مستعفی ہو جائیں ، لیکن وہ لوگ تو آپ کی وجہ سے مضامین لکھنا چھوڑ نہیں سکتے جنہوں نے اپنی بے کاری کا علاج اسی کو سمجھا ہے اور جو اپنا پہاڑ کی طرح نہ کٹنے والا وقت مضمون لکھ کر کاٹتے ہیں۔ ایک دن وہ بھی آنے والا ہے کہ اگرہم غیرت دار ہیں اور وہ حضرات مستقل مزاج لیکن اگر اسی کے ساتھ "ایڈیٹر صاحبان رسالہ جات” کی قدر شناسیاں بھی باقی ہیں تو ہم واقعی ایک ایسا اعلان کرنے کے بعد غائب ہو جائیں گے کہ سب بچے دل سے کم از کم ایک مرتبہ یہ کہہ دیں کہ

"خدا بخشے بہت سے خوبیاں تھیں مرنے والے میں”

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے