بے کار بیٹھنے سے تو بہتر ہے یوں نہ ہو

بے کار بیٹھنے سے تو بہتر ہے یوں نہ ہو
خلقت اگر برا بھی کہے عشق کیوں نہ ہو
اک عمر یونہی مصرعِ ثانی پڑا رہے
میں بار بار مصرعِ اولیٰ کہوں نہ ہو
لفظوں کے ہیر پھیر سے بنتی نہیں ہے بات
جب تک سخن میں لذتِ سوزِ دروں نہ ہو
اب وصل پر بھی ہجر کا سایہ پڑا رہے
پہلو میں اپنے یار ہو اس کا فسوں نہ ہو
جتنا میں اپنے ہونے سے نالاں رہوں ، رہوں
جتنا تو مجھ سے کہتا رہے میں بھی ہوں نہ ہو
ہونا ہے جو وہ ہو کے ہی رہنا ہے بات ختم
ہم لوگ لاکھ کہتے رہیں یوں ہو یوں نہ ہو
آزر وہ آئے پُرسشِ احوال کے لیے
مجھ سے بیان حالتِ حالِ زبوں نہ ہو
دلاور علی آزر 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے