بیگانہ وضع برسوں اس شہر میں رہا ہوں

بیگانہ وضع برسوں اس شہر میں رہا ہوں
بھاگوں ہوں دور سب سے میں کس کا آشنا ہوں
پوچھا کیے ہیں مجھ سے گل برگ لب کو تیرے
بلبل کے ہاتھ جب میں گلزار میں لگا ہوں
اب کارشوق دیکھوں پہنچے مرا کہاں تک
قاصد کے پیچھے میں بھی بے طاقت اٹھ چلا ہوں
تجھ سے متاع خوش کا کیونکر نہ ہوں معرف
یوسفؑ کے ہاتھ پیارے کچھ میں نہیں بکا ہوں
گل پھول کوئی کب تک جھڑ جھڑ کے گرتے دیکھے
اس باغ میں بہت اب جوں غنچہ میں رکا ہوں
کیا کیا کیا تامل اس فکر میں گیا گھل
سمجھا نہ آپ کو میں کیا جانیے کہ کیا ہوں
ہوتا ہے گرم کیا تو اے آفتاب خوبی
ایک آدھ دم میں میں تو شبنم نمط ہوا ہوں
پیری سے جھکتے جھکتے پہنچا ہوں خاک تک میں
وہ سرکشی کہاں ہے اب تو بہت دبا ہوں
مجھ کو بلا ہے وحشت اے میر دور اس سے
جاگہ سے جب اٹھا ہوں آشوب سا اٹھا ہوں
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے