بیت رہی ہے زندگی اسی انتظار میں

بیت رہی ہے زندگی اسی انتظار میں

پہنچیں گے سرورکونین کے دیار میں

جسے چاہیں دونوں جہاں میں عطاکریں

یہ عظمت بھی ہے نبی کے اختیار میں

اتفاق میں برکت ہے اتحاد میں بھی

نقصان ہی نقصان ہے دوستوانتشار میں

چہرہ ء مصطفی دیکھنے سے جی نہیں بھرتا

یہ کہہ رہے تھے صدیق اکبرغار میں

باطل کے سامنے سرجھکتاہی نہیں

درس ملاہے یہ حسین کے انکار میں

آقاکی غلامی میں جولطف ہے

نہیں ہے دنیاکے کسی اقتدار میں

اداکریں سنت رسول کی اس طرح بھی

گھو میں مدینے کی گلیوں میں بازار میں

پسندتھی ہمارے اسلاف کوگوشہ نشینی

ہم چاہتے ہیں نام ہولکھا اشتہار میں

پریشان رہتے ہیں جوانہیں بتادو

تسکین قلب ملتی ہے محفل سرکار میں

الفت محبوب کے چرچے خوب ہیں لیکن

نظرآئے محبت رسول کی کردار میں

مانگی ہیں بخشش امت کی دعائیں صدیق

شفاعت بھی کریں گے روزشماربھی

محمدصدیق پرہار

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے