Be Zuban Raha

غزل- بے زباں رہے

اُٹھ اُٹھ کے بیٹھ بیٹھ گئے ، پھر رواں رہے
ہم صُورتِ غبار پسِ کارواں رہے

مشقِ سخن کے اب وہ زمانے کہاں رہے
کیا خوب لوگ تھے جو مرے ہم زباں رہے

وہ بُت ہمارے پاس خُدا ساز بات تھی
ہم مدتوں خُدا کی قسم بدگماں رہے

اچھا جنابِ عشق ہیں؟ تشریف لائیے!!
خوب آئے آپ! آئیے حضرت کہاں رہے

صاحب ہماری توبہ ، ہمیں باز آ گئے
ہاں ہاں کے بعد پھر نہیں ہے تو ہاں رہے

ہم بے کسی کے فیض سے دریائے شوق میں
تِنکے کی طرح موج کے بَل پر رواں رہے

یہ پاسِ وضع تھا کہ انا الحق نہ کہہ سکے
اہلِ زباں تھے ہم بھی مگر بے زباں رہے

سر سینکڑوں جہاں میں سروں کی کمی نہیں
اس آستاں کی خیر ہو وہ آستاں رہے

دیکھیں کسی کی قبر بھی رہتی ہے یا نہیں
ہر اک یہ چاہتا ہے کہ میرا نشاں رہے

پھر بھی رواں ہے جانبِ ساحل جہازِ عمر
لنگر رہا کوئی نہ کہیں بادباں رہے

گزرے ہوئے شباب کے قصے نہ چھیڑئیے
وہ ہم نہیں رہے تو بھلا تم کہاں رہے

بیچارگی سی تھی مری آوارگی حفیظ
جس طرح کوئی خواب میں اُٹھ کر رواں رہے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے