Be Par Ki Jab Se Log

بے پَر کی جب سے لوگ اُڑانے میں لگ گئے
ہم بھی ہَوا کا ہاتھ بٹانے میں لگ گئے

اِن مفتیانِ شہر سے جب کچھ نہیں بَنا
لوگوں کو دِین دار بنانے میں لگ گئے

خواجہ سَرا نے رات ‘ وہ خواجہ سَرائی کی
شاہ و گدا بھی ‘ ناچنے گانے میں لگ گئے

اِس دشت کو چراغ نہیں ‘ پھول چاہییں
اور آپ ہیں کہ ‘ خاک اڑانے میں لگ گئے

سورج کے پاس بیٹھ گئی کیا دئیے کی لَو
سیّارگاں تو حشر اُٹھانے میں لگ گئے

پانی سے اِک چراغ جلانے کی چاہ میں
کچھ لوگ اپنے خواب بُجھانے میں لگ گئے

کل رات آسمان پر اِک حادثہ ہوا
اور ہم زمیں کے بھاؤ بڑھانے میں لگ گئے

عمران عامی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے