Be chaargi

بے چارگی

میں دیوارِ جہنم کے تلے
ہر دوپہر، مفرور طالب علم کے مانند
آ کر بیٹھتا ہوں اور دزدیدہ تماشا
اس کی پراسرار و شوق انگیز جلوت کا
کسی رخنے سے کرتا ہوں!

معرّی جامِ خوں در دست، لرزاں
اور متنبی کسی بے آب ریگستاں
میں تشنہ لب سراسیمہ
یزید اِک قلّۂ تنہا پر اپنی آگ میں سوزاں
ابوجہل اژدہا بن کر
خجالت کے شجر کی شاخ پر غلطاں
بہأاللہ کے جسمِ ناتواں کا ہر
رواں اِک نشترِ خنداں
زلیخا، ایک چرخِ نور و رنگ آرا
سے پابستہ
وہیں پہیم رواں، گرداں
ژواں، حلّاج، سرمد
چرسی انسان کی طرح ژولیدہ مو، عریاں
مگر رقصاں

ستالن، مارکس، لینن روئے آسودہ
مگر نارس تمنّاؤں کے سوز و کرب سے شمع تہِ داماں
یہ سب منظور ہے یارب
کہ اس میں ہے وہ ہاؤ ہو، وہ ہنگامہ وہ سیمابی
کہ پائی جس سے ایسی سیمیائی صورتوں نے
روحِ خلاّقی کی بے تابی
مگر میرے خدا، میرے محمد کے خدا مجھ سے
غلام احمد کی برفانی نگاہوں کی
یہ دل سوزی سے محرومی
یہ بے نوری یہ سنگینی
بس اب دیکھی نہیں جاتی
غلام احمد کی یہ نا مردمی دیکھی نہیں جاتی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے