بظاہر جو نظر آتا ہے سب ویسا نہیں ہوتا

بظاہر جو نظر آتا ہے سب ویسا نہیں ہوتا
ہر اک اہلِ نظر بھی دیکھنے والا نہیں ہوتا
بہت سے خواب ہوتے ہیں جو رہ جاتے ہیں خواب اکثر
کبھی کچھ وہ بھی مل جاتا ہے جو سوچا نہیں ہوتا
کسی کا قرب ہے کتنا قریب آنے پہ کھلتا ہے
جسے اپنا سمجھتے ہیں وہی اپنا نہیں ہوتا
جدا ہوتے ہوئے لمحے اسے تلقین کر دی تھی
جو لگتا ہے کہ ہم جیسا ہے ہم جیسا نہیں ہوتا
ہمیں معلوم ہے روہی کے بچے کیوں نہیں پڑھتے.
کبھی وردی نہیں ہوتی کبھی بستہ نہیں ہوتا
ہماری خامشی کو تم ہماری ہار سمجھے ہو
ہر اونچا بولنے والا ہی تو سچا نہیں ہوتا
بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو ہو کر بھی نہیں ہوتے
کوئی ہر دم نظر آتا ہے جو دیکھا نہیں ہوتا
خدا پہ جب گراں گزرا، خدا نے کہہ دیا آخر
تم ایسا کس لیے کہتے ہو جو کرنا نہیں ہوتا
ہمیں پھولوں کی رنگینی سے کیا لینا صغیر احمد
ہمارے ذہن میں جب کوئی بھی خاکہ نہیں ہوتا
صغیر احمد صغیر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے