بے شک گزر رہی ہے مسلسل عذاب میں

بے شک گزر رہی ہے مسلسل عذاب میں
لیکن عجیب لطف ہے اس اضطراب میں
شامل کبھی نہیں تھی میں تیرے نصاب میں
پر خود کو ڈھونڈتی رہی چاہت کے باب میں
کتنی اُداسیاں تھیں مرے چار سُو بسی
واپس پلٹ گئی مری تعبیر خواب میں
خوابوں کے ڈوب جانے کی اب فکر کیا کریں
جب ڈال بیٹھے کشتیِ دل ہم چناب میں
اُس نے بھی دردِ ہجر مقدر میں لکھ دیا
میں نے بھی بھیج دی ہے جدائی جواب میں
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے