بے چارگئ حسرت دیدار دیکھنا

بے چارگئ حسرت دیدار دیکھنا
مشکل نہ دیکھنا ہے تو دشوار دیکھنا
لمحات انتظار کی رفتار دیکھنا
وہ بار بار سایۂ دیوار دیکھنا
یوں دیکھنا کہ ٹوٹے نہ رشتہ نگاہ کا
اک بار دیکھنے میں وہ سو بار دیکھنا
یا صبح ہی سے شام کا پر کیف انتظار
یا شام ہی سے صبح کے آثار دیکھنا
کیا دل فریب ہے ترے خواب گراں کا حسن
تجھ سے نہاں ترے لب و رخسار دیکھنا
درد فراق کی سحر اولیں حفیظؔ
اٹھتے ہی جانب در و دیوار دیکھنا
حفیظ ہوشیارپوری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے