بات کو جرم ناسزا سمجھے

بات کو جرم ناسزا سمجھے
اہل غم جانے تجھ کو کیا سمجھے
اپنے دعوے کو کیا غلط کہتے
تیری نفرت کو بھی ادا سمجھے
چھوڑئیے بھی اب آئینے کا خیال
دیکھ پائے کوئی تو کیا سمجھے
اک ستارہ فلک سے ٹوٹا تھا
ہم جسے صبح کی ضیا سمجھے
اس کے غم کا علاج کیا باقیؔ
جو محبت ہی کو دوا سمجھے
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے