بسی ہے یاد کوئی آ کے میرے کاجل میں

بسی ہے یاد کوئی آ کے میرے کاجل میں
لپٹ گیا ہے ادھورا خیال آنچل میں
میں ایک سیپ ابھی مجھ کو تہہ میں رہنے دو
گہر بنا نہیں کرتے ہیں ایک دو پل میں
اسی چراغ کی لو سے یہ دل دھڑکتا ہے
جلائے رکھتی ہوں جس کو شبِ مسلسل میں
ٹپک رہے ہیں در و بام سے مرے آنسو
چھپے ہوئے تھے ابھی تک وہ جیسے بادل میں
میں زندگی کے لئے پھول چننا چاہتی ہوں
کہیں اداس نہ ہو وہ،خزاں زدہ کل میں
خزاں کا دور ہے لیکن کسی کی چاہت سے
دھڑک رہی ہے بہار ایک ایک کونپل میں
جو تتلیوں کی طرح سوگوار ہے نیناں
اکیلی گھومتی ہے زندگی کے جنگل میں
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے