بشرطِ استواری

بشرطِ استواری
خونِ جمہور میں بھیگے ہوئے پرچم لے کر
مجھ سے افراد کی شاہی نے وفا مانگی ہے
صبح کے نور پہ تعزیر لگانے کے لیے
شب کی سنگین سیاہی نے وفا مانگی ہے
اور یہ چاہا ہے کہ میں قافلۂ آدم کو
ٹوکنے والی نگاہوں کا مددگار بنوں!
جس تصور سے چراغاں ہے سر جادۂ زیست
اس تصور کی ہزیمت کا گنہگار بنوں!
ظلم پروردہ قوانین کے ایوانوں سے
بیڑیاں تکتی ہیں زنجیر صدا دیتی ہے
طاقِ تادیب سے انصاب کے بت گھورتے ہیں
مسندِ عدل سے شمشیر صدا دیتی ہے
لیکن اے عظمتِ انساں کے سنہرے خوابو
میں کسی تاج کی سطوت کا پرستار نہیں
میرے افکار کا عنوانِ ارادت تم ہو
میں تمہارا ہوں لٹیروں کا وفادار نہیں
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے