بسائے دِل میں مُحَمَّدؐ کا پیار بیٹھے ہیں

بسائے دِل میں مُحٙمّٙد ؐ کا پیار بیٹھے ہیں
ہم اپنی ہٙستی کی زُلفیں سنوار بیٹھے ہیں
نہیں تھا پاس ہمارے سِوائے دِل کُچھ بھی
سو وہ بھی اُن ؐ کی محٙبّٙت میں ہار بیٹھے ہیں
زرا بھی خوف نہیں اب ہمیں تو مٙحشٙر کا
دِلوں کو یادِ نبیؐ سے نِکھار بیٹھے ہیں
چڑھی ہے اب تو فٙقٙط آرزوئے دِید ِ نبیؐ
تمام خواہشیں دِل سے اُتار بیٹھے ہیں
بٙسی ہُوئی ہے جو دِل میں ، یہ اُنؐ کی اُلفٙت ہے
غُرُور و حِرس و ہوٙس کو تو مار بیٹھے ہیں
کرا دے اب تو ہمیں دِید ِ مُصطفٰےؐ مولا
کئی برٙس ہُوئے ہم بے قرار بیٹھے ہیں
بھٙٹٙکتے پھِرتے ہیں غافِل تمام ، دُنیا میں
مُحِبّ ِ شاہِ اُمٙم ؐ با وقار بیٹھے ہیں
مٙقام کیسے نہ اُن کا بُلٙند ہو کیفی !
مٙتاعِ جاں جو مُحٙمّٙدؐ پہ وار بیٹھے ہیں
محمود کیفی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے